Top News

Breaking

با ادب با نصیب

اسٹوڈنٹس نے ٹیچر سے کہا سر آپ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلیں 5 گیندوں پر ٹیچر نے 2 رن بنائے چھٹی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے...😕
 اسٹوڈنٹس نے شور مچا کر بھرپور خوشی ظاہر کی..
کلاس میں ٹیچر نے پوچھا کون کون چاہتا تھا کہ میں اسکی گیند پر آوٹ ہو جاٶں..؟
سب باٶلرز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے..
ٹیچر ہنس دیئے پوچھا میں کرکٹر کیسا ہوں..؟
سب نے کہا بہت برے..
پوچھا میں ٹیچر کیسا ہوں جواب ملا بہت اچھے..
ٹیچر پھر ہنس دیئے..
صرف آپ نہیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے ہزارہا اسٹوڈنٹس جن میں کئی میرے نظریاتی مخالف ہیں گواہی دیتے ہیں کہ میں اچھا ٹیچر ہوں راز کی بات بتاؤں میں جتنا اچھا ٹیچر ہوں اتنا اچھا اسٹوڈنٹ نہیں تھا مجھے ہمیشہ سبق یاد کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور بات سمجھنے میں وقت لگا لیکن کیا آپ بتا سکتے ہیں اسکے باوجود مجھے اچھا ٹیچر کیوں مانا جاتا ہے..؟
سب نے کہا سر آپ بتائیں کیوں..؟
ٹیچر نے کہا ادب...
مجھے اچھی طرح یاد ہے اپنے ٹیچر کے ہاں دعوت کی تیاری میں انکی مدد کر رہا تھا فریزر سے برف نکالی جسے توڑنے کیلئے کمرے میں کوئی شے نہیں تھی استاد کام کیلئے کمرے سے نکلے تو میں نے مکا مار کر برف توڑ دی اور استاد کے آنے سے پہلے جلدی سے ٹوٹی ہوئی برف دیوار پر بھی دے ماری...☺
استاد کمرے میں آئے تو دیکھا کہ میں نے برف دیوار پر مار کر توڑی ہے انہوں نے مجھے ڈانٹا کہ تمہیں عقل کب آئیگی یوں برف توڑی جاتی ہے میں نے انکی ڈانٹ خاموشی سے سنی بعد میں انہوں نے اس بیوقوفی کا ذکر کئی جگہ کیا میں ہمیشہ بیوقوفوں کی طرح سر ہلا کر انکی ڈانٹ سنتا..
انہیں آج بھی نہیں معلوم کہ برف میں نے مکا مار کر توڑی تھی...☺
یہ بات میں نے انہیں اسلئے نہیں بتائی کہ وہ ایک ہاتھ سے معذور تھے انکی غیر موجودگی میں میں نے جوانی کے جوش میں مکا مار کر برف توڑ دی لیکن جب انکی معذوری کا خیال آیا تو سوچا کہ میرے طاقت کے مظاہرے سے انہیں احساس کمتری نہ ہو اس لیئے میں نے برف دیوار پر مارنے کی احمقانہ حرکت کی اور لمبے عرصے تک انکی ڈانٹ سنتا رہا...😕
اور ایک آپ لوگ ہیں کہ ایک دوسرے کو چیخ چیخ کر ہدایات دے رہے تھے کہ سر کو یارکر مار کر آوٹ کرو..
جیتنا سب کچھ نہیں ہوتا کبھی ہارنے سے زندگی میں جیت کے رستے کھلتے ہیں آپ طاقت میں اپنے ٹیچرز اور والدین سے بے شک بڑھ جاتے ہیں لیکن زندگی میں سب سے جیتنا چاہتے ہیں تو اپنے ٹیچرز اور والدین سے جیتنے کی کوشش نہ کریں آپ کبھی نہیں ہاریں گے...☺
اللہ پاک آپکو ہر میدان میں سرخرو کرے گا....☺
(منقول)

خریدوفروخت

ایک شخص نے بہتر گھر خریدنے کیلئے اپنا پہلے والا گھر بیچنا چاہا.. اس مقصد کیلئے وہ اپنے ایک ایسے دوست کے پاس گیا جو جائیداد کی خرید و فروخت میں اچھی شہرت رکھتا تھا..
اس شخص نے اپنے دوست کو مُدعا سنانے کے بعد کہا کہ وہ اس کے لئے گھر برائے فروخت کا ایک اشتہار لکھ دے..
اس کا دوست اِس گھر کو بہت ہی اچھی طرح سے جانتا تھا.. اشتہار کی تحریر میں اُس نے گھر کے محل وقوع ' رقبے ' ڈیزائن ' تعمیراتی مواد ' باغیچے ' سوئمنگ پول سمیت ہر خوبی کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا..
اعلان مکمل ہونے پر اُس نے اپنے دوست کو یہ اشتہار پڑھ کر سُنایا تاکہ تحریر پر اُسکی رائے لے سکے.. اشتہار کی تحریر سُن کر اُس شخص نے کہا.. " برائے مہربانی اس اشتہار کو ذرا دوبارہ پڑھنا.. "
اُس کے دوست نے اشتہار دوبارہ پڑھ کر سُنا دیا.. اشتہار کی تحریر کو دوبارہ سُن کر یہ شخص تقریباً چیخ ہی پڑا.. " کیا میں ایسے شاندار گھر میں رہتا ہوں..؟ اور میں ساری زندگی ایک ایسے گھر کے خواب دیکھتا رہا جس میں کچھ ایسی ہی خوبیاں ہوں مگر یہ کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ میں تو رہ ہی ایسے گھر میں رہا ہوں جس کی ایسی خوبیاں تم بیان کر رہے ہو..
مہربانی کر کے اس اشتہار کو ضائع کر دو.. میرا گھر بکاؤ ہی نہیں ہے.. "
ایک منٹ ٹھہریئے.. مضمون ابھی پورا نہیں ہوا..
ایک بہت پرانی کہاوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نعمتیں تمہیں دی ہیں ان کو ایک کاغذ پر لکھنا شروع کر دو.. یقیناً اس لکھائی کے بعد تمہاری زندگی اور زیادہ خوش و خرم ہو جائے گی..
اصل میں ہم اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا ہی بھلائے بیٹھے ہیں کیوں کہ جو کچھ برکتیں اور نعمتیں ہم پر برس رہی ہیں ہم اُن کو گننا ہی نہیں چاہتے.. ہم تو صرف اپنی گنی چنی چند پریشانیاں یا کمی اور کوتاہیاں دیکھتے ہیں اور برکتوں اور نعمتوں کو بھول جاتے ہیں..
" اپنے ننگے پیروں کو دیکھ کر کُڑھتے ہیں.. پر ایک ایسے شخص کو دیکھو جس کے پاؤں ہی نہیں ہیں 
کتنے ایسے لوگ ہیں جو آپ جیسا گھر ' گاڑی ' ٹیلیفون ' تعلیمی سند ' نوکری وغیرہ وغیرہ وغیرہ کی خواہش کرتے ہیں..
کتنے ایسے لوگ ہیں جب آپ اپنی گاڑی پر سوار جا رہے ہوتے ہو تو وہ سڑک پر ننگے پاؤں یا پیدل جا رہے ہوتے ہیں..
کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے سر پر چھت نہیں ہوتی جب آپ اپنے گھر میں محفوظ آرام سے سو رہے ہوتے ہیں..
کتنے ایسے لوگ ہیں جو علم حاصل کرنا چاہتے تھے اور نا کر سکے.. اور آپ کے پاس تعلیم کی سند موجود ہے..
کتنے بے روزگار شخص ہیں جو فاقہ کشی کرتے ہیں اور آپ کے پاس ملازمت اور منصب موجود ہے..
ہزاروں باتیں لکھی اور کہی جا سکتی ہیں..
کیا خیال ہے.. ابھی بھی اللہ کی نعمتوں کے اعتراف اور اُنکا شکر ادا کرنے کا وقت نہیں آیا کہ ہم کہہ دیں..
" یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے.
منقول

ڈپریشن۔

 گزشتہ کچھ دنوں سے اس موضوع پر بہت بحث ہو رہی ہے۔ سب سے روح فرسا امر یہ ہے کہ کتنے کامیاب قابل اور ذہین لوگ بھی ڈپریشن کے ہاتھوں اپنی ذہنی کیفیت تباہ کر بیٹھتے ہیں۔ کچھ مایوس ہو کر زندگیوں کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔ یہ سمجھنے اور جاننے کی کہ ڈپریشن کیا ہے اور اس سے نکلنے کی کوشش نہیں کرتے۔ذہانت، قابلیت، کامیابی اس بات کی ضامن نہیں کہ ہم ڈپریشن کا شکار نہیں ہو سکتے۔ اس کے لئے ڈپریشن کو سمجھنے اور اپنے آپ کو جذباتی طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ "ڈپریشن"  اسکی یک لفظی تشریح ممکن نہیں۔ یہ درحقیقت ایک کیفیت ہےجو وقتی یا مستقل، طویل یا مختصر ہو سکتی ہے۔ اسکی شدت اور دورانیہ ہر انسان میں مختلف ہوتا ہے۔  مایوسی،پریشانی، بے بسی، تنہائی، منفی سوچ یا مثبت سوچ اور مصروفیات کی کمی،زندگی میں بے مقصدیت یا مقصد کے حصول میں ناکامی،لا یعنی اور ادھوری خواہشات، مستقبل کے بارے میں بے یقینی، احساس محرومی، احساس کمزوری،  دوسروں پر بے اعتباری، خود اعتمادی کا فقدان، مذہب سے دوری، اپنی خوبیوں کے بارے میں لاعلمی اور ان کے علاوہ دیگر کئی عوامل ہیں جو رفتہ رفتہ انسان کو ڈپریشن کی طرف لے جاتے ہیں اور بسا اوقات اس ڈپریشن کا انجام اس اندھیری گلی پر ہوتا ہے جس سے آگے کچھ سجھائی نہیں دیتا اور انسان زندگی کے خاتمے کے قریب پہنچ جاتا ہے۔  میرا ماننا ہے کہ ایک عام نارمل انسان زندگی میں عموماً ایک بار یا کئی بار ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے۔ یہ کیفیت اس کے اوپر مستقل طاری رہتی ہے یا مختصر ثابت ہوتی ہے، شدید نوعیت کی ہوتی ہے یا درمیانی یا عمومی نوعیت کی اس کا تعلق ہر انسان کی قوت ارادی، حالات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور اسے مثبت طرز زندگی کی طرف واپس لانے والے عوامل سے ہوتا ہے۔اگر ہم ڈپریشن سے گزر رہے ہیں تو ہمیں اس بات کو جھٹلانے کی نہیں بلکہ اس کا سامناکرے کی ضرورت ہے۔" ضروری نہیں کہ ہم ڈپریشن کے خاتمے اور علاج کے لئے کسی ماہر نفسیات کے پاس جائیں یا سکون آور ادویات کا استعمال کریں ۔ ہم کچھ انفرادی اور اجتماعی کوششوں کے ذریعےاسے شکست دے سکتے ہیں۔ہم سب زندگی میں کئی بار اس دور سے گزرتے ہیں جہاں ہم کسی بہت قریبی ، پیارے اور اپنے کو کھو دینے کے بعد مایوسی اور اکیلے پن کی انتہا کو پہنچ جا تے ہیں۔کسی خواہش یامقصد کے حصول میں ناکامی ہمارے اعتماد کو ختم کر دیتی ہے۔ کسی بہت قریبی انسان کا دھوکا یا ساتھ چھوڑ دینا ہمیں بے اعتبار اور تنہا کر دیتا ہے۔ کبھی موت یا بیماری کو قریب سے دیکھ لینا ہمارے اعصاب جھنجھوڑ دیتا ہے۔ کبھی بے تحاشا ذمے داریو ں ، حوصلہ افزائی کی کمی درست رہنمائی کی کمی اور بے جا مادیت پرستی ہمیں ذہنی سکون  اطمینان اور خوشی کے احساس سے دور کر دیتی ہے۔ بسا اوقات ہر وقت کی لعن طعن، بے جا تنقید ، لڑائی جھگڑے ہمیں احساس محرومی ،پریشانی اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ ڈپریشن کی وجوہات چاہیں کوئی بھی ہوں، دورانیہ اور نوعیت خواہ کیسی بھی ہو جو واحد عمل ہماری ڈپریشن سے نکلنے میں مدد کر سکتا ہے وہ "ہماری ذاتی کوشش"۔ سب سے پہلے اپنے اندر یہ احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں اس کیفیت سے باہر نکلنا ہے۔ یقین جانیے کوئی ہماری مدد تب تک نہیں کر پائے گا جب تک ہم مدد لینے کا ارادہ نہیں کر لیتے۔ سب نصیحتیں بے کار ہیں اگر ہم انہیں اپنے دل تک پہنچنے کی راہ نہیں دیتے۔ ڈپریشن سے نکلنے اور ممکنہ ڈپریشن سے بچنے کے لئےکچھ باتوں کو اپنے دل و دماغ میں بٹھانے کی  اور ان پرعمل کرنے کی ضرورت ہے اول تو یہ کہ زندگی بہت قیمتی شے ہے اور یہ منفی سوچوں اور دیگر عوامل کے ہاتھوں ضائع کرنے کے لئے نہیں ہے۔ ہر انسان کو کسی مقصد کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ کسی کا وجود رائیگاں نہیں ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مقصد کو تلاش کیا جائے۔ اپنی ذات کی اہمیت اور اپنی خوبیوں کو سمجھا جائے۔ خود سے پیار کیا جائے خود پر اعتماد کیا جائے۔ہم کیا نہیں کر سکتے یہ سوچنے کے بجائے ہم کیا کر سکتے ہیں یہ جاننے کی کوشش کی جائے۔  زندگی میں مثبت مشاغل ڈھونڈے جائیں ۔موسیقی سننا، فلم یا ڈرامہ دیکھنا، اپنی پسندیدہ اشیاء کپڑے جوتے وغیرہ خریدنا یا اکٹھی کرنا اور ان جیسے دیگر مادی مشاغل ہمیں وقتی اور ظاہری خوشی  دیتے ہیں۔ ہمیں اپنے آپ کو مثبت طور پر مصروف رکھنے کی ضرورت ہے۔کچھ ایسے مشاغل ڈھونڈنے چاہئیں جو دیر پا اور اندرونی سکون دیں جیسے کہ کتابیں پڑھنا، لکھنا، تصاویر بنانا، باغبانی کرنا، پرندوں یا پالتو جانوروں کے ساتھ وقت گزارنا، سیر و تفریح کرنا، دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا وغیرہ۔ خود پر اعتماد رکھا جائے۔ دوستوں پر اعتبار کیا جائے۔ زندگی میں کچھ ایسے تعلقات ضرور بنانے چاہئیں جن کے ساتھ وقت ضرورت دل کی بات کر سکیں، جو آپکو درست مشورہ دے سکیں اور آپ پر مثبت تنقیدکر کے آپکو بہتری کی طرف لے جا سکیں۔زندگی میں آپ کو کئی طرح کے لوگ ملیں گے مگر سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ہر انسان خود غرض اور مطلبی نہیں ہوتا۔ مخلص لوگ آپ کو ارد گرد ہی نظر آئیں گے بس ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انسان کا اچھا حلقہ احباب اس کی ذہنی اور دلی حالت پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔  اپنی خواہشات کو محدود کرنے کی ضرورت ہے۔ زندگی میں خوب سے خوب تر کی جستجو بری چیز نہیں اگر اسے ایک حد میں رکھا جائے۔ آگے بڑھنا ترقی کرنا سب کو اچھا لگتا ہے مگر اس کی حد پہچاننے کی ضرورت ہے۔ جس حد سے آگے ہم اپنے آپ سے، اپنے احباب اور اہل خانہ سے دور ہو جائیں، تنہا رہ جائیں حد سےزیادہ مصروف ہو جائیں مادیت پرستی کی دوڑ کا حصّہ بن جائیں وہاں سے ہماری تباہی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ ہجوم کا حصّہ بنے رہنے میں ہی عافیت ہے۔ ہجوم سے کٹ کر تنہا جینے کی ،لاکھوں میں ایک کے طور پر نمایاں بن کر رہنے کی ایک قیمت ہے جسے ادا کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے اس لئے کامیابی کا سفر شروع کرتے ہوئے اسکی حد کا تعین ضرور کرلینا چاہئیے جہاں پہنچ کر دل۔مطمئن ہو جائے اور مزید کی حرص نہ رہے۔ خواہشات کو حرص اور ہوس میں نہ بدلنے دیں۔ میانہ روی اختیار کریں۔ چھوٹی کامیابیوں اور خوشیوں پر خوش ہونا سیکھیں۔ خود کو بے حد مصروف، اپنوں سے دور اور اکیلا ہونے سے بچائیں۔ یقین جانئیے زندگی چھوٹی گاڑی، چھوٹے گھر اور بنا برینڈڈ کپڑوں کے بلکہ بنا گاڑی اور گھر کے جھو نپڑی میں بھی بے حد خوب صورت ہے اگر اس میں دل کا سکون اور چھوٹی چھوٹی خوشیاں شامل ہوں۔ ایک بے حدضروری امر یہ ہے کہ اپنا مذہب سے تعلق مظبوط کیا جائے۔ اپنے آپ کو اپنے خالق اور مالک کے آگے جھکا دینا انسان کے اندر سے غرور، مایوسی،محرومی تنہائی ہر طرح کے منفی جذبات کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ زندگی اور موت اللہ کی امانت ہے۔ خالق،مالک، رازق وہی ہے، تمام فیصلے اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ گرے ہوئے کو،اٹھانے والا ٹوٹے ہوئے کو جوڑنے والا ذلت کو عزت اور ناکامی کو کامیابیوں میں بدلنے والا بس وہی پروردگا ہے۔ میں نے کہیں ایک واقعہ پڑھا جو اپنے اثر پذیر جملے کی وجہ سے یاد رہ گیا۔ "محمود غزنوی نے اپنے غلام ایاز کو ایک انگوٹھی دی اور اس سے کہا اس پر ایسا جملہ لکھو جو اگر میں خوشی میں دیکھوں تو غمگین ہو جاؤں اور اگر غمی میں دیکھوں تو مطمئن ہو جاؤں۔  عقل مند غلام نے انگوٹھی پر لکھوایا:
*یہ وقت بھی گزر جائے گا* " یقین جانئے اس ایک جملے میں ہماری کل زندگی کی کہانی چھپی  ہے۔ اگر ہم اپنے آپ کو یہ یاد دلاتے رہیں کہ کوئی بھی وقت اور کیفیت مستقل نہیں ہوتی ۔ اچھا ہو یا برا وقت کا کام گزر جانا ہے تو ہم مایوسی اور غرور جیسے احساسات سے دور رہ سکتے ہیں۔ اور آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ اپنے پیاروں، دوستوں اور رشتے داروں کو وقت دیں۔ ان کی دلی کیفیات اور جذبات سمجھنے کی کوشش کریں۔ اپنے آپ کو ان کے لئے با آسانی میسر کریں۔ کسی کی کال اٹھا لینا کسی کا جنازہ اٹھانے سے بہتر ہے۔ کسی کے ساتھ رہنا کسی کے بغیر رہنے سے بہتر ہے۔ کسی کے ساتھ ہنس بول لینا اکیلے رو لینے سے بہتر ہے۔ کسی کو دو بول تسلی پیار اور تعریف کے بول دینا بےجا نفرت اور تنقید سے بہتر ہے۔ کسی ٹوٹے ہوئے تعلق کو جوڑ لینا ہمیشہ کے لئے تعلق توڑ لینے سے بہتر ہے۔ آج کسی کا ہونا کل کسی کے نہ ہونے سے بہت بہتر ہے۔ زندگی بہت مختصر ہے اسے اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی خوبصورت بنائیں۔ خود بھی مضبوط بنیں، مثبت طرز زندگی اپنائیں اور اپنے دوستوں اور رشتے داروں میں بھی مثبت خیالات پھیلائیں۔ کسی کی منفی سوچ یا منفی طرز زندگی کا رخ مثبت اور مقصدیت کی طرف موڑ دینا بھی صدقہ جاریہ ہے۔  آخری دو سطریں میرے پیاروں کے نام کہ میرے دل اور گھر کے دروازے آپ سب کے لئے کھلے ہیں۔  جب کبھی اکیلا پن یا اپنے آپ کو پریشانیوں میں گھرا ہوا محسوس کریں مجھے آزما کے ضرور دیکھیں میں بہت اچھی سامع بن سکتی ہوں۔ آپ کا ہر مسئلہ ہر دکھ سن کر دل میں دفن کر سکتی ہوں اور یہ میرے لئے آپ کا وجود مٹی میں دفن کرنے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ میں ہمیشہ آپ کے لئے موجود ہوں اور یہی دو بول آپ سے سننا چاہتی ہوں کہ آپ بھی میرے لئے موجود ہیں۔ اللہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے، ہمارا ایمان سلامت رکھے ہماری زندگیوں میں آسانیاں پیدا فرمائے اور ہمیں قانع اور شاکر رکھے آمین۔
نادیہ شہزاد کے قلم سے

۔۔گھر میں سکون۔۔ 

تحریر ابوفروا۔
سوال یہ پوچھا گیا ھے کہ گھر میں سکون کی زمہ داری کس کی ھے عورت کی یا مرد کی۔
یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے اور اس معاملے کا صحیح علم نہ ہونے کی وجہ ہے کہ آج کل گھروں میں بے سکونی پریشانی لڑائی جھگڑے اور اس کے نتیجے میں نوبت طلاق تک پہنچ رہی ہے۔ آج معاشرے میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کی بنیادی وجہ یہ ہے۔
اس سوال کا صحیح جواب جاننے کے لیے ایک مثال دیکھیں کہ کسی بھی ریاست میں سکون امن و امان قائم رکھنے کی زمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ؟
آپ کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ اس ریاست کے تمام افراد پر، بلکہ آپ فوراً جواب دیں گے کہ اس ریاست کے سربراہ پر۔
اسی طرح کسی بھی ادارے کے اندر نظم و نسق اور حالات کو بہتر رکھنے کی زمہ داری بھی اس ادارے کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے۔
تو گھر بھی ایک ادارہ ہے اس لیے لازم ہوا کہ گھر کے اندر امن و سکون قائم رکھنا بھی اس گھر کے سربراہ کی زمہ داری ہے۔
اور یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لیں کے کسی بھی ادارے کے ایک سے زیادہ سربراہ نہیں ہوسکتے 
ایک ہی سربراہ ہوگا اور باقی تمام لوگ اسی کے احکامات کو فالو کریں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ گھر کا سربراہ کون ہوگا عورت یا مرد ؟
تو یہ فیصلہ اس گھر کے افراد خود کریں گے کہ وہ کس کو سربراہ بناتے ہیں 
آپ کے رب نے اور آپ کے نبی مکرم نے  انسانوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ مرد کو گھر کا سربراہ بنائیں۔
یعنی مرد قوام ہوگا۔
قوام کا مطلب ہی یہ ھے کہ گھر کا نظم و نسق قائم رکھنے والا حفاظت کرنے والا اور ضروریات زندگی مہیا کرنے والا۔
آپ چاہیں تو کوئی عورت بھی قوام بن سکتی ہے 
لیکن ضروری امر یہ ہے کہ قوام مرد بنے یا عورت لیکن قوام ایک ہی ہوگا۔
دو یا تین نہیں ہوسکتے۔
اگر جوائنٹ فیملی سسٹم ہے اور مرد قوام ہے تو بھی ایک ہی ہوگا وہ شوہر ہو یا سسر 
اور اگر عورت قوام بنے گی تو بھی ایک ہی ہوگی بہو بنے یا ساس قوام بنے۔
یعنی کوئی ایک ہی فرد قوام بنے گا۔ سربراہ ایک سے زیادہ ہو ہی نہیں سکتا۔
بہرحال جو بھی قوام کے منصب پر آنا چاہے اس کے لیے پھر لازم ہے کہ وہ ہی گھر کی حفاظت بھی کرے گا اور کما کر بھی لائے گا۔
اگر میاں بیوی دونوں کماتے ہیں تو اس صورت میں بھی قوام کوئی ایک ھی منتخب کیا جائے گا۔ ورنہ انتشار مقدر ہوگا۔
جو بھی شخص گھر کا سربراہ بنے لازم ہے کہ اس میں اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کی صلاحیت موجود ہو۔
اور وہ اپنا ہر فیصلہ انصاف پر کرے کسی ایک کی طرف داری یا دوسرے کی حق تلفی نہ کرے۔ کسی ایک کو دوسرے پر زیادتی نہ کرنے دے نہ خود کسی پر زیادتی کرے۔
بد قسمتی سے آج کی نسل میں یہ بیانیہ زور پکڑ گیا کہ میاں بیوی برابر ہیں اس لیے دونوں کا حکم چلے گا۔
یقیناً میاں بیوی انسان ہونے کے ناطے برابر ہیں 
جیسے کسی ادارے میں 18 گریڈ کے تمام لوگ برابر ہوتے ہیں لیکن اگر ان میں سے کسی کو اس ادارے کا سربراہ بنا دیا جاتا ہے تو اب وہ سب اپنے سربراہ کے برابر نہیں رہتے۔
تمام نماز پڑھنے والے برابر ہوتے ہیں لیکن پھر انہی نمازیوں میں سے ایک آگے بڑھ کر امام بن جاتا ہے اور باقی سب اسے فالو کرتے ہیں امام سے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو باقی سب بھی سجدہ سہو ادا کرتے ہیں۔۔۔
نبی کریم نے فرمایا کے اگر دو افراد سفر پر جائیں تو ان میں سے ایک دوسرے کو اپنا سربراہ بنا لے۔ تاکہ کوئی تنازع پیدا نہ ہو۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ دو لوگ ایک ساتھ پوری زندگی گزارنے کے سفر پر روانہ ہوں اور ان میں سے ایک دوسرے کو اپنا راہنما نہ بنائے۔۔۔ 
 یہ منصب کا تقاضا ہے کہ اب اس کے احکامات پر عمل کیا جائے۔
اسی طرح گھر میں موجود بہو، ساس، بیٹے، بیٹیاں، باپ وغیرہ تمام افراد جب تک کسی ایک سربراہ کے نیچے نہیں ہونگے اور ہر ایک اپنی اپنی مرضی کرے گا یا یہ چاہے گا کہ اسکی بات مانی جائے۔ یا کسی گھر میں دو سربراہ بن جائیں گے تو گھر میں سکون پیدا نہیں ہوسکتا۔ 
جتنے مرضی تجربات کر لیں جواب صفر آئے گا۔
ابوفروا۔۔

خواتین کی قدر کیجئے،

عورت کو حمل قرار پاتے ھی اس کی نفسیات میں نہایت اھم اور عجیب قسم کی تبدیلیاں دیکھنے میں آتی ھے ، لوگ بس قے کو ھی انجوائے کرتے ھیں جبکہ اس کے کھانے پینے اور سونے جاگنے کے معاملات گڑبڑ ھو جاتے ھیں ، اس کی پسندیدہ ڈشیں اب ناپسندیدہ ھو جاتی ھیں ، ان کی خوشبو سے ھی اسے الٹیاں شروع ھو جاتی ھیں گویا عورت کو سگنل دے دیا گیا کہ اب اس کی قربانیوں کا سلسلہ شروع ھو گیا ھے ، اسے اس نئ زندگی کے لئے اپنا وہ سب کچھ قربان کرنا پڑے گا جو کل تک اس کے لئے بڑا اھم تھا ،،
اسی کے ساتھ اس کے رویئے میں بھی تبدیلی رونما ھوتی ھے ، اور وہ ڈیپریشن کی مریضہ بن جاتی ھے ، ھر ایک کے گلے پڑتی ھے ، چھوٹی بات اس کو بڑی اور ناقابلِ برداشت لگتی ھے ،اکثر اس کا موڈ آف رھتا ھے ،، یہ تبدیلیاں ھر ماں میں ھوتی ھیں یہانتک کہ مرغی بھی اس کیفیت میں بے مروت شیر بن جاتی ھے جو اپنے ڈربے کے پاس پھٹکنے والی ھر چیز پر حملہ آور ھوتی ھے ، اس کا موڈ بھی آف ھو جاتا ھے اور کئ کئ دن کھانے کو جی نہیں چاھتا ،، جس کے باھر زندگی نشوونما پا رھی ھے اگر اس کا حال یہ ھے تو جس کے اندر زندگی جنم لے رھی ھے اس کی کیفیات کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ جو اس کیفیت سے گزرچکا ھوں مثلا ساس ،
اس عرصے میں عورت کو تعاون کی شدید ضرورت ھوتی ھے کہ اس کے رویئے کی تبدیلی کو اس کا عیب نہ سمجھا جائے بلکہ بیماری سمجھ کر اس کو برداشت کیا جائے اور اس کی دلجوئی کا پورا اھتمام کیا جائے خاص طور پر ساس کا کام ھے کہ وہ بیٹے کو سمجھائے کہ بیٹا یہ نارمل روٹین ھے بچے والی عورت کے ساتھ یہ سب ھوتا ھے اور جب تم پیٹ میں تھے تو میرا بھی یہی حال تھا ، دو چار ماہ کی بات ھے بچہ جوں جوں میچور ھوتا ھے حالت سنبھلتی جاتی ھے ،،
مگر ساس ھی بعض دفعہ بیٹے کو بھڑکانے کا سبب بن جاتی ھے ، ھم نے بھی بچے پیدا کیئے ھیں ، یہ کوئی نرالا بچہ پیدا نہیں کرنے لگی ، نخرے کر رھی ھے ،ھم تو کھیتوں میں بھی کام کرتی تھیں ،یہ گھر کا کام بھی نہیں کر سکتی ،، وغیرہ وغیرہ یوں عورت کی دلجوئی کی بجائے اس کو انہی دنوں میں طلاق بھی دے دی جاتی ھے کہ ھم ایسی عورت کو نہیں رکھ سکتے ،،
اور پھر بڑے معصوم ھو کر مسئلہ پوچھتے ھیں کہ " قاری صاحب بیوی کو طلاق دے دی ھے جبکہ وہ حاملہ ھے تو کیا اس صورت میں طلاق ھو جاتی ھے؟ بیٹا تم گولی مار کر ڈاکٹر سے پوچھتے ھو کہ ڈاکٹر صاحب میں نے بیوی کو گولی مار دی ھے جبکہ وہ حاملہ تھی تو کیا اس صورت میں گولی لگ گئ ھے ؟

دیور_اور_بھابی

 #دیور_ایک_ہندی_زبان_کا_لفظ_ہے_جس_کے_معنیٰ_ہے____آدھا_شوہر"
اکثر و بیشتر لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ گھر میں دیور اور جیٹھ سے بھابھی کا پردہ نا کرنا کیسی غضب ناک صورتحال اختیار کر سکتا یے، یقین جانیں یہ مکمل خسارے میں جانے والا عمل ہے، بھابھی دیور سے پردہ نا کرے جیٹھ سے پردہ نا کرے یہ نادانی شوہر کو لے ڈوبے گی اور شوہر کو کان و کان خبر نہیں ہوگی کہ اسکے پیچھے سے گھر پر بیوی اور بھائی میں کیا معاملات چل رہے ہیں، آج دنیا اس قدر گندی اور غلیظ ہوچکی یے کہ یہاں لکھنا مناسب نہیں لہذا بیوی، بہن اور بیٹی کے معاملے میں ذرا سی نادانی یا سستی ساری زندگی کی شرمندگی کا باعث بن سکتا یے۔۔۔!!!
بہن اور بیٹی کے معاملے میں خطرات گھر سے باہر ہوتے ہیں لیکن بیوی کے معاملے میں خطرہ تو ہر وقت گھر میں موجود ہے دیور اور جیٹھ کی صورت میں کیوں کہ دیور اور جیٹھ کو معلوم ہے کہ بھائ کب گھر آتا یے کب جاتا ہے لہذا بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت یے کہ بیوی کا اپنے بھایئوں سے پردہ کروایا جاۓ، اب گھروں میں تو دیور بھابھی کے ساتھ اکیلا کمرے میں موجود ہے ہنسی مزاق، قہقہے چل رہے ہیں گھر کا کوئ دوسرا دیکھ بھی لے تو کوئ برا ماننے والی بات نہیں سمجھی جاتی کہ دیور بھابھی ہیں آپس میں مزاق کر رہے ہیں لیکن میرے بھائ جس دن شیطان مزاق کر گیا اس دن خود سے نظریں نہیں ملا سکیں گے۔۔۔!!!
کوئ دیر نہیں لگتی شیطانی خیالات ذہن کے اندر آنے میں، اور ذرا تاخیر نہیں ہوگی شیطانی عمل کے انجام ہونے میں، شوہر کو کیا خبر وہ تو باہر کام میں مصروف ہوتا یے لہذا اس حوالے سے فکرمندی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ گھر میں بیوی کا بھایئوں سے پردہ لاذمی کروایا جاۓ۔۔۔!!!
اول تو ہم یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ یہ نا ممکن یے کہ اگر بھابھی پردہ نہیں کرتی یے تو دیور اور جیٹھ کے دل میں برا خیال نہیں آتا، بھابھی غیر محرم ہے اور یہ قدرت کی طرف سے مرد کے اندر فطری بات ہے کہ غیرمحرم کو دیکھ کر مرد کے دل میں غلط خیالات ضرور آیئں گے، اگر کوئ دیور یا جیٹھ کہتا یے کہ میرے دل میں بھابھی کے لیۓ غلط خیالات نہیں آتے تو وہ جھوٹ کہ رہا یے یا وہ فرشتہ ہے یا وہ درمیانی مخلوق ہے، مرد کے دل میں غلط خیالات صرف محرم رشتوں کے لیۓ نہیں آیئں گے باقی تمام غیر محرم کے لیۓ دل میں غلط خیال ضرور آتے ہیں اور اسی لیۓ شریعت نے غیر محرموں سے پردے کا حکم دیا یے۔۔۔!!!
جب بھابھی سے پردے کی بات ہوتی یے تو جواب ملتا ہے کہ بھابھی ماں کی طرح ہوتی یے، ہم بھابھی پر گندی نظر نہیں ڈالتے، یہ شیطانی سوچ یے جناب، یہ خود کو مطمئن اور سامنے والے کو بیوقوف بنانے والی باتیں ہیں، اگر بھابھی ماں کی طرح ہوتی تو اسلام نے اِس ماں سے اتنا سخت پردے کا حکم نا دیا ہوتا۔۔۔!!
اب شاید چند ذہنوں میں سوال اجاۓ کہ سالک شفیق یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں تو جناب یہ میری باتیں تو کچھ اہمیت نہیں رکھتیں رسول اللہﷺ نے تو دیور کو "موت" قرار دیا ہے۔۔۔!!!
فرمایا رسول اللہﷺ نے "دیور تو موت کی طرح ہے"
لہذا عقلمندوں کے لیۓ اشارہ کافی ہے کہ رسول اللہﷺ نے کیسا سخت لفظ استعمال کیا ہے "دیور" کے لیۓ کہ "دیور تو موت کی طرح ہے۔"
ہم سب مسلمان ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی ایک ایک بات پتھر پر لکیر یے، لہذا یہ عمل کرنے کی ضرورت ہے کہ بیوی کا بھایئوں سے ہر صورت پردہ کروایا جاۓ ورنہ سخت ترین ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔۔۔!!!
"دیور" ایک ہندی ذبان کا لفظ ہے جس کے معنیٰ ہے "آدھا شوہر" اسکے مفہوم کے اندر جایئں تو پیروں تلے زمین نکل جاۓ، یہ لفظ دیور "دے" کا مطلب ہے آدھا یا دوسرا اور "ور" کا مطلب ہے شوہر، لہذا جس رشتے کے نام کا مطلب ہی اتنا غلیظ ہے اور رسول اللہﷺ نے بھی اس رشتے کو بھابھی کے لیۓ موت قرار دے دیا ہے اگر ان سب کے باوجود شوہر بیوی کا بھایئوں سے پردہ نہیں کرواتا تو شوہر کی یہ نادانی اسے کبھی بھی لے کر ڈوب سکتی یے۔۔۔!!!
کچھ گھروں میں ایسا ہوتا ہے کہ بیوی شوہر کے بھائی سے پردہ کرنا چاہتی یے لیکن شوہر منع کرتا یے۔
کچھ گھروں میں ایسا ہوتا یے کہ جب بیوی دیور یا جیٹھ کی بری نظروں کی خبر شوہر کو دیتی ہیں تو شوہر بیویوں پر ہی برس پڑتے ہیں کہ بھائ پر الزام لگا رہی ہو اور کچھ گھروں میں بیویاں دیور اور جیٹھ کی بری نظریں اس وجہ سے برداشت کرجاتی ہیں کہ شوہر کو آگاہ کیا تو مجھے ہی دو چار سنادے گا کہ میرے بھایئوں کو برا سمجھتی ہے۔
لہذا ہر صورت میں بیوی کا بھایئوں سے پردہ کروانا چاہیۓ یہ اللہ اور رسول اللہﷺ کے احکامات ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ اور رسول اللہﷺ کے احکامات سے منہ پھیرا ہے ذلت و تباہی ان کا مقدر ٹھہری یے۔۔۔!!!

ایک بادشاہ راستہ بھٹک کر کسی ویرانے میں پہنچ گیا،

وہاں جھونپڑی تھی اس جھونپڑی میں رہنے والے شخص نے بادشاہ کی بڑی خدمت کی، وہ غریب جانتا بھی نہیں تھا کہ یہ بادشاہ ہے، مسافر سمجھ کر خدمت کی، بادشاہ بہت خوش ہوا، جب جانے لگا تو اس نے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتاری اور کہا:تم مجھے نہیں جانتے ہو کہ میں بادشاہ ہوں۔یہ انگوٹھی اپنے پاس رکھو، جب کبھی کوئی ضروت ہوگی ہمارے محل میں آجانا، دروازے پر جو دربان ہوگا اسے یہ انگوٹھی دکھا دینا، ہم کسی بھی حالت میں ہوں گے وہ ہم سے ملاقات کرادے گا۔بادشاہ چلا گیا،
 کچھ دن کے بعد اس کو کوئی ضرورت پیش آئی ، تو وہ دیہاتی بڑے میاں محل کے دروازے پر پہنچے، کہا بادشاہ سے ملنا ہے، دربان نے اوپر سے نیچے تک دیکھا کہ اس کی کیا اوقات ہے بادشاہ سے ملنے کی، کہنے لگا نہیں مل سکتے، مفلس وقلاش آدمی ہے۔ اس دیہاتی شخص نے پھر وہ انگوٹھی دکھائی، اب جو دربان نے دیکھا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، یہ بادشاہ کی مہر لگانے والی انگوٹھی آپ کے پاس ؟بادشاہ کا حکم تھا کہ یہ انگوٹھی جولے کر آئے گا ہم جس حالت میں ہو اُسے ہمارے پاس پہنچادیا جائے، چنانچہ دربان اسےساتھ لے کر بادشاہ کے خاص کمرے تک گیا، دروازہ کھلا ہوا تھا، اندر داخل ہوئے، اب یہ جو شخص وہاں چل کر آیا تھا، اس کی نظر پڑی کہ بادشاہ نماز میں مشغول ہے، پھر اس نے دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھائے،اس کی نظر پڑی تو وہ وہیں سے واپس ہوگیا اور محل کے باہر جانے لگا، دربان نےکہا مل تو لو کہا اب نہیں ملنا ہے، کام ہوگیا ۔ اب واپس جاناہے تھوڑی دورچلاگیا،
Urdu kahaniyan
 جب بادشاہ فارغ ہوگیا دربان نے کہاایسا ایسا آدمی آیا تھا یہاں تک آیا پھر واپس جانے لگا بادشاہ نے کہا فوراً لے کر آو وہ ہمارا محسن ہے، واپس لایا گیا بادشاہ نے کہا آئے ہو تو ملے ہوتے ایسے کیسے چلے گئے؟ اس نےکہا کہ بادشاہ سلامت !اصل بات یہ ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ کوئی ضرورت پیش آئے تو آجانا ہم ضرورت پوری کردیں گے۔مجھے ضرورت پیش آئی تھی میں آیا اور آکر دیکھا کہ آپ بھی کسی سے مانگ رہے ہیں ، تو میرے دل میں خیال آیا کہ بادشاہ جس سے مانگ رہا ہے کیوں نہ میں بھی اسی سے مانگ لوں۔*
*یہ ہے وہ چیزکہ ہمیں جب کبھی کوئی ضرورت ہو بڑی ہو یا چھوٹی ٬اس کا سوال صرف اللہ پاک سےکیاجائےکہ وہی ایک در ہےجہاں مانگی ہوئی مرادملتی ہے ۔*
*جو چاہئے سو مانگیے