Top News

Breaking

۔۔۔۔۔۔۔۔ تکبر یا عزت نفس۔۔

تحریر: ابو فروا
سوال پوچھا گیا ھے کہ 
انا یا تکبر کس طبقہ میں یا کس جنس میں زیادہ پایا جاتا ھے۔؟
عوام الناس کے لیے اس سوال کا جواب دینا مشکل ھے کیونکہ۔
یہ برائی انسانوں میں بہت زیادہ پائی جاتی ھے۔
اور اصول یہ ھے کہ جب کوئی بھی برائی زیادہ تر انسانوں میں نظر آئے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ھے کہ یا تو وہ اس برائی کو پہچان نہیں پا رھے۔ یا پھر اسے برائی مان نہیں رھے۔۔
تکبر یا انا ایک رویہ کا نام ھے۔
اور عزت نفس ایک جذبے کا نام ھے۔
اب۔ یہ کہ۔ تکبر اور عزت نفس میں ایک بہت لطیف فرق ھے اس لیے ایک عام انسان اس فرق کو سمجھنے میں ہمیشہ غلطی کر جاتا ھے۔
تکبر کرنے والا شخص اپنے آپکو یہ کہہ کر مطمئن کرتا ھے کہ میں تو اپنی عزت نفس کی حفاظت کر رہا ہوں
اور میں  کمتر نہیں ہوں بس یہ بتا یا دیکھا یا سمجھا رہا ہوں دوسرے کو۔۔۔
پوری دنیا میں آپکو ایک بھی شخص ایسا نہیں ملے گا کہ وہ یہ تسلیم کر لے کہ وہ متکبر ھے۔۔ کیوں۔ ؟
اس لیے کہ ہر شخص یہ بہت اچھے سے جانتا ھے کہ تکبر ایک انتہائی ناپسندیدہ رویہ ھے انسانوں کے نزدیک بھی اور رب کے نزدیک بھی۔
پھر تو کیا آپکو دنیا میں متکبر لوگ نظر نہیں آتے۔۔ ؟
یقیناً آپکو بہت لوگ متکبر نظر آئیں گے (اپنے علاؤہ)
یا سچے علم والوں کے علاؤہ
تو آئیے آج سمجھیں کہ تکبر اور عزت نفس میں کیا فرق ھے۔
تکبر۔۔ اس میں انسان دوسرے کو اپنے سے حقیر سمجھتا ھے یا اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر سمجھتا ھے۔
عزت نفس۔۔
اس میں انسان اپنی ذات کی عزت کرتا ھے اور دوسرے کی بھی عزت کرتا ھے۔ اور اگر کوئی دوسرا اسے ذلیل کرنے یا کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ھے تو عزت نفس والا شخص اسے کوئی جواب نہیں دیتا بلکہ انتہائی خاموشی اور شرافت سے اس سے الگ ہو جاتا ھے
یعنی اس جگہ نہیں جاتا جہاں اس کی عزت نہیں کی جاتی لیکن اگر کبھی اتفاق سے ملنا پڑ بھی جائے تو انہیں احترام دینے میں کمی نہیں کرتا۔
عزت نفس کو قائم کرنا، سنبھالنا، انتہائی مشکل کام ھے۔ 
مجھے اپنی عزت نفس بہت عزیز ھے صرف یہ کہہ دینے سے آپکے نفس کو عزت نہیں ملتی۔
بلکہ یہ ثابت کرنا پڑتا ھے کہ میرا نفس عزت کے قابل ھے۔
اور یہ ثابت کرے گی آپکی زبان۔ آپکا رویہ۔ آپکے اخلاق۔۔
اب آتے ہیں سوال کے بنیادی حصے کی طرف کہ یہ تکبر کا رویہ معاشرے کے کس طبقے میں زیادہ نظر آتا ھے
یہ رویہ آپکو ان افراد میں زیادہ نظر آئے گا جن کے پاس دولت کی کمی ہوگی معاشرے کے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں۔
وجہ اس کی یہ ھے کہ بدقسمتی سے معاشرے نے عزت کو دولت کے ساتھ نتھی کر دیا ھے۔
معاشرہ صرف ان لوگوں کو عزت دار سمجھتا ھے یا ان کا احترام کرتا ھے جن کے پاس دولت ہوتی ھے۔
اب جس کے پاس دولت نہیں ھے وہ کیا کرے۔ ؟
وہ انانیت کا ایک خود ساختہ خول اپنے اوپر چڑھا لیتا ھے۔
یہ خول کیسا ہوتا ھے ؟
اس کو وہ کیسے استعمال کرتا ھے۔ ؟
اپنے آپ کو کیسے مطمئن کرتا ھے۔؟
اس کی تفصیل 
 ایک الگ مضمون کا تقاضا کرتی ھے
سوال کا وہ حصہ جس میں جنسی تقابل کے حوالے سے تکبر کی بابت پوچھا گیا ھے تو۔
میرے مطابق مردوں میں تکبر اپنی خالص اور حقیقی شکل میں ہوتا ھے ( یعنی جس میں ہو)
اور عورتیں تکبر کا برقع اوڑھ لیتیں ہیں مجبوراً۔
ہمارا معاشرہ چونکہ مردوں کی حاکمیت کا معاشرہ ھے اس لیے عورت کو ایسا لگتا ھے کہ وہ بے توقیر ہورہی ھے۔ ( اور صحیح لگتا ھے)
تو پھر عورت مرد کی حاکمیت کے خلاف بغاوت کے جذبے کے زیر اثر تکبر کا برقع اوڑھتی ھے۔
فرق یہ پڑتا ھے کہ مرد اپنے تکبر کو بہت چلاکی سے چھپا لیتا ھے لیکن عورت اپنی فطری معصومیت کی وجہ سے اپنے( جالی) تکبر کو چھپانے میں ناکام رہتی ھے
جس کی وجہ سے بظاہر ایسا لگتا ھے کہ عورتوں میں انا یا تکبر زیادہ ھے۔۔
                   ۔۔۔ ابوفروا۔۔۔

۔۔خیالات کی رفو گری۔۔

تحریر ابوفروا۔۔
انسان کی پوری زندگی پر سب سے زیادہ اثرات اس کے اپنے خیالات کے مرتب ہوتے ہیں۔
انسان کی اس دنیا میں کامیابی ناکامی۔ اور آخرت میں کامیابی اور ناکامی کا زیادہ تر دارومدار ان خیالات پر ہی ہوتا ہے جو اس کے ذہن کو اپنی آماج گاہ بنائے رکھتے ہیں۔
یہ تمام خیالات جو انسان میں ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں یہ اس کی اپنے عقل کی طرف سے بھی آتے رہتے ہیں اور انسان کے جذبات بھی ان خیالات کو پیدا کرنے میں اپنا کام کرتے ہیں۔ 
اس کے ساتھ ساتھ علم کے راستے بھی کچھ خیالات انسان تک پہنچتے رہتے ہیں۔
لیکن جو خیالات علم کے ذریعے ایک عام انسان تک پہنچتے ہیں وہ اس کے لیے زیادہ تر قابل اعتنا نہیں ہوتے یا اسے پسند نہیں آتے۔
اسے وہ خیالات زیادہ فیسیٹیٹ کرتے ہیں جو اس کے جذبات اس تک پہنچاتے ہیں۔
پھر یہ تمام اقسام کے خیالات اس کے ذہن میں گڈ مڈ ہوجاتے 
انسان یہ بات بہت اچھے سے جانتا ہے کہ جو خیالات جذبات نے اسے دیے ہوتے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہوتے لیکن وہ بہت چالاکی سے اپنے ان جذباتی خیالات کو عقلی خیالات کا لبادہ اوڑھانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ کم از کم اپنے آپ کو مطمئن کر سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمارے اندر اپنی ذات کے لیے اور دوسروں کے لیے منفی اور مثبت خیالات بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
یہ منفی اور مثبت خیالات کیا ہیں ؟
جو خیالات جذبات کی طرف سے آتے ہیں وہ زیادہ تر منفی ہوتے ہیں اور جو خیالات علم و عقل کی طرف سے آتے ہیں وہ زیادہ تر مثبت ہوتے ہیں۔
لیکن اگر ہم اپنے منفی خیالات کی رفو گری نہ کریں تو ایک وقت آتا ہے کہ ہماری پوری شخصیت منفی بن جاتی ہے۔
پھر ہمیں ہر شخص ہر شہ منفی نظر آتی ہے۔ اور یہ ہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی شخصیت مسخ ہوکر فوت ہو جاتی ہے۔
ہمیں اپنی ذات کی۔
اپنے علم کی۔ اپنے جذبات کی عصبیت سے اگر باہر نکلنا ہے تو پھر سب سے پہلے اپنے خیالات کی رفو گری کرنی ہوگی۔
اپنے خیالات کو دیانت داری سے پہچاننا ہوگا کہ کہ کونسا خیال کس طرف سے مجھ پر وارد ہو رہا ہے۔
یہ ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم انسانیت کی معراج پا سکتے ہیں اور اس دنیا میں اور آخرت میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ 
ورنہ گلے سڑے اور پھٹے پرانے خیالات ہمیں اس مقام پر لے جاتے ہیں جس کا قرآن نے ذکر کیا ہے کہ انسان اسفل السافلین کے مقام پر پہنچ جاتا ہے یعنی
گھٹیا سے بھی گھٹیا ہو جاتا ہے۔
اپنے بوسیدہ خیالات میں ڈوب کے کبھی بھی انسان سراغ زندگانی نہیں پا سکتا۔۔
ابوفروا۔۔۔

جِسے ہم بھُول بیٹھے تھے

میں کمپیوٹر پر کچھ کام کر رہا تھا کہ میری بیگم مجھ سے کچھ فاصلے پر بیٹھی مجھ سے باتیں کر رہی تھی اور میں اس کی باتوں سے، اس کے بولنے سے شدید اکتاہٹ کا شکار ہوکر شاکی نظروں سے اس کی طرف دیکھتا اور وہ کچھ دیر کے لئے خاموش ہوجاتی اور میری جانب خائف نظروں سے دیکھنے لگتی اور ایک بار پھر سب بھول بھال کر مجھ سے باتیں کرنے لگتی اور میں بغیر جواب دیئے ہُوں ہاں کرکے کمپیوٹر پر مصروف رہا کچھ دیر خاموشی طاری رہی تو میں نے دھیان دیا تو دیکھا وہ صوفے سے ٹیک لگائے سو رہی ہے میں نے اس وقت اپنی بیوی کے چہرے کو غور سے دیکھا، وہ دنیا مافیہا سے بے خبر سو رہی تھی میں اس کے چہرے کی معصومیت پر کافی دیر غور کرتا رہا اور سوچتا رہا کہ یار یہ عورت بھی کیا مسکین ہوتی ہے ، برسوں اپنے باپ کی شفقت کے سائے تلے اپنے گھر والوں کے ساتھ پلتی بڑھتی ہے، اور اب کہاں ایک نا واقف شخص کے ساتھ آ کر زندگی گزار رہی ہے، اور اس نا واقف شخص کیلئے اس نے اپنے گھر بار ماں باپ چھوڑا، والدین کا لاڈ و پیار اور ناز نخرا چھوڑا، اپنے گھر کی راحت اور آرام کو چھوڑا، اس شخص کی دل و جان سے خدمت کرتی ہے، اس کا دل بہلاتی ہے، اس کو راحت اور سکون دیتی ہے، سارا دن گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہے، سخت گرمی میں جب میں اور بچے اے سی کی ٹھنڈک میں آرام کر رہے ہوتے ہیں تو وہ آگ میں تپتے کچن میں ہمارے لئے کھانا بنا رہی ہوتی ہے پھر جب وہ کھانا لگاتی ہے بچے اور میں کھانا کھا رہے ہوتے ہیں تب بھی بار بار اس کے کچن کے چکر لگ رہے ہوتے ہیں پھر کچھ دیر بیٹھ کر جلدی جلدی خود بھی دوچار لقمے کھا لیتی ہے کیونکہ کھانا کھاتے ہی میں نے چائے پینی ہوتی ہے اس  نے پھر کچن میں چائے کے لئے چلے جانا ہے پھر برتن سمیٹنے اور برتن دھونے ۔ 
جس دن مشین لگانی ہو کپڑے دھونے ہوں اس دن وہ صبح پانچ بجے سے لانڈری میں ہوتی ہے اور آٹھ بجے سارے کام چھوڑ کر ہمارے لئے ناشتہ بنانے کچن میں چلی جاتی ہے ، ناشتہ کروا کے برتن سمیٹ کے ایکبار پھر لانڈری میں کپڑے دھونے میں مگن ہوجاتی ہے،
 رات کو سب کو کھانا کھلا کر برتن دھوکر تقریباََ گیارہ بارہ بجے کچھ دیر میرے پاس بیٹھ کر باتیں کرنا چاہتی ہے مگر میں ۔۔۔۔ میں اس وقت کمپیوٹر پر کسی نہ کسی کام میں مصروف ہوتا ہوں اور وہ بے چاری سب باتیں دل میں دبائے صوفے پر ہی سو جاتی ہے ۔۔۔
یہ بیویاں کیسی ہوتی ہیں یار کبھی اگر سوچا جائے تو آنکھیں اشکبار ہوجائیں گھر کے کام اگر ایک دن کے لئے بھی ہم مردوں کو کرنے پڑ جائیں تو یقیناََ ہم خدا کے آگے ہاتھ جوڑ لیں۔۔
سچ ہے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اس کی طاقت و ہمت کے مطابق اور اس کی صلاحیت کے مطابق ذمہ داریاں سونپی ہوئی ہوتی ہیں ۔۔
عورت جتنی بھی کوشش کرلے مرد کے مقابلے میں باہر کے کام نہیں کر سکتی وہ کہیں نہ کہیں مار کھا جائے گی اور اسی طرح مرد چاہے جتنی بھی کوشش کر لے ایک گھر کو اس طرھ سے مینیج نہیں کر سکتا جیسے ایک عورت کر لیتی ہے۔۔۔ جبکہ عورت چند لمحوں میں ہر شے کو ترتیب دے کر گھر کو صاف ستھرا کر دیتی ہے ۔۔۔
میں سوچنے لگا کہ ہم میں سے کئی ہوتے ہیں جو معمولی سی بات پر بیدردی اور بے رحمی سے اپنی بیویوں کو مار پیٹ لیتے ہیں..
بلکہ کچھ تو دھکے دیکر اپنے گھر سے بھی باہر نکال کرتے ہیں،، انہیں واپس اپنے ماں باپ کے اس گھر لا ڈالتے ہیں جو وہ اس کی خاطر چھوڑ کر آئی تھی، ہم میں سے ہی کچھ لوگ ہوتے ہیں جو بیویوں کو گھر میں ڈال کر دوستوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے ہیں، ہوٹلوں میں جا کر وہ کچھ کھاتے پیتے ہیں جس کا ان کے گھر میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا..
ہم میں سے ہی کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کے باہر اٹھنے بیٹھنے کا دورانیہ ان کے اپنے بیوی بچوں کے پاس اٹھنے بیٹھنے کے دورانیئے سے زیادہ ہوتا ہے..
ہم میں سے ہی کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے گھر کو اپنی بیوی کیلئے جیل بنا کر رکھ دیتے ہیں، نا انہیں کبھی باہر اندر لیجاتے ہیں، اور نا ہی کبھی ان کے پاس بیٹھ کر ان سے دل کا حال سنتے سناتے ہیں..
ہم میں سے ہی کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی بیوی کو ایسی حالت میں سلا دیتے ہیں کہ اس کے دل میں کسی چیز کی خلش اور چھبن تھی، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔۔
ہم میں سے ہی کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی راحت اور اپنی بہتر زندگی کیلئے گھر چھوڑ کر باہر نکل کھڑے ہوتے ہیں، پیچھے مڑ کر اپنی بیوی اور بچوں کی خبر بھی نہیں لیتے کہ ان پر ان کے باہر رہنے کے عرصہ میں کیا گزرتی ہوگی..
ہم میں سے ہی کچھ لوگ ہوتے ہیں جو ایسی ذمہ داری سے بھاگ جاتے ہیں جس کے بارے میں ان سے روز محشر پوچھ گچھ کی جائے گی..
براہِ کرم میری اس تحریر پر یہ فتویٰ مت لگا کر اپنی منافقت کا اظہار مت کیجیئے گا کہ ماں کا ذکر کیا نہیں اور بیوی بیوی کرتا رہا ہوں ۔۔
کیونکہ یہ تحریر صرف بیوی کے لئے ہے ماں کے لئے ہزاروں بار لکھا ہے اور آئیندہ بھی لکھتے رہیں گے ۔
میری ماں بھی ایک بیوی تھی اور میری بیوی بھی ایک ماں ہے اگر ہم یہ سوچ کر چلیں گے تو منافقت سے دور ہو کر ایک اچھا معاشرہ ترتیب دے سکتے ہیں

کیا ساس سسر کی خدمت بہو پر فرض ہے ؟

*تحریر:ابو فروا*
دین اسلام نے معاشرت کے متعلق بہت واضح احکامات دیئے ہیں 
معاشرت کے متعلق تمام تر معاملات اور اخلاقیات سے متعلق کچھ بنیادی نکات بیان کردیے گئے ہیں جن پر رکھ کر ہم اپنے روز مرہ کے معاملات اور آپس کے تعلقات کے اخلاقیات کو جانچ سکتے ہیں۔ کہ کیا صحیح ہے اور کیا صحیح نھیں ہے۔
ہمارے حقوق کیا ہیں اور فرائض کیا۔
اور یہ کہ کس رشتے کے ساتھ ہمارے تعلق کی نوعیت کیسی ہونی چاہیے۔
قرآن نے تایا چچا کا نام لیکر نھیں بلکہ عزیز واقارب کا لفظ استعمال کر کے کہہ دیا کہ ان کے ساتھ قطع تعلق نھیں کر سکتے رشتوں کو جوڑنے کا حکم دے دیا توڑنے کا نھیں۔
پڑوسیوں کے حقوق بیان کردیے، پہلو کے ساتھی یعنی دوستوں کے حقوق کی بات کی۔
والدین کے حقوق اور ان کے فرائض اور ان کا رتبہ بھی بیان کیا۔
یہ واحد رشتہ ہے جس میں صرف حقوق و فرائض ہی نھیں بلکہ ان کا رتبہ بھی بیان کیا گیا ہے۔
اب وہ رشتے جو خون کے رشتے نھیں بلکہ بنائے جاتے ہیں وہ رشتہ ازدواج ہے۔
اس میں قرآن نے شوہر کے حقوق کے وہ قوام (حاکم) ہوگا۔ اور شوہر کے فرائض کے وہ اپنی بیوی کی ہر ضرورت کو پورا کرنے والا اور اس کے ساتھ رحم کرنے والا ہوگا۔
اب آتے ہیں ان رشتوں کی طرف جو شادی کے نتیجے میں بنتے ہیں جیسے ساس سسر، دیور سالی وغیرہ۔
تو سوال ساس سسر کے بارے میں پوچھا گیا ہے۔
اس رشتے کے لیے دین نے شریعی والدین کا صیغہ استعمال کیا۔ یعنی شادی کے بعد ساس سسر کا رشتہ شریعت نے ماں باپ کا رشتہ قرار دیا۔ اور اس رشتے کی حرمت کو عارضی نھیں رکھا بلکہ دائمی حرمت دے دی یعنی جیسے سالی یا دیور کا رشتہ عارضی حرمت کا ہے کہ اگر طلاق ہو جائے تو سالی یا دیور سے شادی ہو سکتی ہے مطلب طلاق کے بعد حرمت ختم ہوگئی۔
لیکن ساس سسر کو جو رتبہ اور حرمت دی گئی وہ دائمی
ہے مرتے دم تک کے لیے انھیں والدین کا رتبہ عطا ہوا ہے اب طلاق کے بعد بھی ساس یا سسر سے شادی نھیں ہوسکتی کیونکہ وہ آپ کے والدین کے رتبے پر فائز ہوگئے ہیں۔
کسی ادارے کے DG کیلئے جو حقوق و فرائض طے ہوگئے اور جو اس کا رتبہ طے ہوگیا وہ ہر اس شخص کے لیے ہوگا جو بھی اس پوسٹ پر آئے گا۔
تو جب شریعت نے ساس سسر کو والدین کے رتبے پر فائز کر دیا تو اب ان کے حقوق وفرائض اور رتبہ بھی بلکل وہ ہی ہوگا جو والدین کے باب میں بیان ہوگیا ہے۔
ساس سسر کا ادب و احترام اور خدمت بلکل ایسے ہی بہو اور داماد پر فرض ہوگی جیسے کہ والدین کی ہے۔
اور ساس سسر کا یہ رتبہ طلاق کے بعد بھی ختم نھیں ہوگا۔ یعنی شادی شدہ حالت میں تو کیا طلاق کے بعد بھی ساس سسر کی خدمت فرض ہے۔ 
اگر ایسا نہ ہوتا تو جب شریعت نے ساس سسر کو والدین کا درجہ دیا تب یہ استثناء بیان کر دیتا کہ یہ والدین تو بن گئے ہیں لیکن ان کا رتبہ اور ان کے حقوق آپ کے حقیقی والدین جیسے نھیں ہیں۔
لیکن ایسا کوئی استثناء بیان نھیں ہوا۔ 
ساس سسر ہمیشہ کے لیے محترم بنا دیئے گئے یعنی وہ ویسے ہی محرم ہیں جیسے حقیقی والدین محرم ہیں۔
یہاں ایک سوال ذہین میں پیدا ہوسکتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللّٰہ کسی دوسرے شخص کو بلکل وہ رتبہ دے دے جو حقیقی والدین کا ہوتا ہے۔ 
تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حقیقی والدین والا رتبہ اللّٰہ نے اور لوگوں کو بھی دیا ہے
جیسے وہ عورت جو آپ کو دودھ پلا دے صرف ایک بار
وہ مرد جو کسی بچے کو اپنا لے پالک بنا لے۔ اور قرآن نے تو نبی کی بیویوں کو بھی ہمارے لیے ماں کا رتبہ دے دیا۔۔۔ 
شریعت میں تو یہاں تک ہے کہ اگر کوئی عورت ہمارے بچپن میں صرف ایک گھونٹ دودھ ہمیں پلا دے تو اس کا رتبہ حقیقی ماں کے برابر ہو جاتا ہے۔
یہاں تک کے اس عورت کی اولاد سگے بہن بھائی بن جاتے ہیں ان سے شادی نھیں ہوسکتی۔
اگر اب بھی کوئی شخص یہ اصرار کرے کہ میں نھیں مانتا مجھے تو صاف الفاظ میں یہ لکھا ہوا دکھاؤ کہ ساس سسر کی خدمت فرض ہے۔ تو اس سے میرا یہ سوال ہے کہ کیا پھر دادا دادی، نانا نانی کی خدمت بھی فرض نھیں ہے کیونکہ صاف الفاظ میں تو صرف ماں باپ ہی لکھا ہوا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ سب سے پہلی زمہ داری ساس سسر اور شوہر کی ہے کہ وہ آنے والی بہو کو سگی بیٹی کا رتبہ اور وہی عزت و شفقت دیں اور اسی طرح بہو کے بھی لاڈ اٹھائیں جیسے بیٹی کے اٹھاتے ہیں تب ہی وہ ماں باپ کے مرتبے پر فائز ہونے کا حق رکھتے ہیں اگر وہ بہو کو بیٹی کا رتبہ نھیں دیتے تو اس صورت میں وہ خود ماں باپ کے رتبے سے محروم ہو جائیں گے۔
اس لیے کہ جہاں شریعت نے ساس سسر کو ماں باپ کے درجے پر فائز کیا ہے وہاں بہو کو بھی بیٹی کے درجے پر فائز کر دیا ہے تو یہ ہو نھیں سکتا کہ کوئی اپنے حق کا تو مطالبہ کرے لیکن اپنے فرض کو نا قبول کرے۔
کسی بھی رشتے یا اپنے حقوق و فرائض کو اپنی پسند نہ پسند کے مطابق نھیں بلکہ دین اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق سمجھا جانا چاہیے۔
ابو فروا۔

۔۔۔ محبت کی ایکسپائیری ڈیٹ۔۔

تحریر: ابوفروا۔
انسانی ذات میں جذبات کا ایک سمندر ہے ان میں مثبت جذبات بھی ہیں اور منفی جذبات بھی۔ یہ جذبات ہی ہیں جو انسان میں خوشی اور غمی کے احساسات پیدا کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ انسان میں کامیابیوں اور ناکامیوں کا دارومدار بھی زیادہ تر ان جذبات ہی کا مرہون منت ہے۔
لیکن یہ بات جان لینی چاہیے کہ جذبات جتنے بھی قوی ہوں بہرحال ان سب کی ایک ایکسپائری ڈیٹ (expiry date) ہوتی ہے یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی بھی انسان کسی ایک جذبے کے زیر اثر ہمیشہ رہے یعنی یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص تمام عمر غصے کی حالت میں رہے یا دکھی رہے یا شاد رہے یا مستقل ہنستا رہے یا روتا رہے۔
تمام تر انسانی جذبات کا زیادہ تر تعلق بل واسطہ اس کی ضروریات کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔
جیسے ہی کسی جذبے سے وابستہ ضرورت کم یا زیادہ ہوتی ہے ویسے ہی وہ جذبہ بھی شدید یا سرد ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
اس تمہید کے بعد اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف 
یعنی "جذبہ محبت"۔۔ 
لوگوں کی اکثریت اس خام خیالی میں زندگی بسر کرتی ہے کہ شاید یہ جذبہ محبت دائمی ہوتا ہے یعنی اگر کسی سے ایک بار محبت ہو جائے تو یہ محبت ہمیشہ رہے گی اس کی کوئی ایکسپائری ڈیٹ نہیں ہے۔۔ 
نہیں ایسا نہیں۔۔ بلکل نہیں ہے
محبت بھی دوسرے جذبوں کی طرح کا ایک جذبہ ہی ہے اور یہ بھی اس وقت تک رہے گا جب تک وہ ضرورت باقی رہے گی جو اس جذبے کی محرک تھی۔ 
اس ضمن میں ایک بات جاننا بھی ضروری ہے وہ یہ کہ لوگوں کی اکثریت اس جذبہ محبت کو سمجھنے سے بھی قاصر رہتی ہے۔ یعنی ایک بندہ جو یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ مجھے فلاں شخص سے بہت محبت ہے تو کیا وہ واقعی میں محبت ہوتی بھی ہے یا نہیں۔۔ ؟
دیکھیں حسن ہر انسان کو بھاتا ہے اور انسان اس کی طرف لپکتا ہے وہ حسن شکل و صورت کا ہو، کردار کا ہو، اخلاق کا ہو، یا علم و دولت کا ہو، 
پھر جیسے ہی اس حسن میں کمی آجاتی ہے جس کی طرف وہ بندہ لپکا تھا یا اسے اس سے زیادہ حسن نظر آ جاتا ہے کہیں اور۔۔ تو اسے لگتا ہے کہ اسے اب اس شخص سے وہ محبت نہیں رہی جو پہلے تھی۔
اسی طرح اور بھی بہت سی چیزیں ہیں جسے انسان محبت سمجھ لیتا ہے۔ مثلاً
انسیت ہے۔ اور سب سے بڑھ کر جنسی کشش ہے۔ یا اسکول و آفس کے ساتھیوں سے محبت۔ تو جسے آپ محبت کا نام دیتے ہیں وہ دراصل زیادہ تر آپ کی ضروریات ہی ہوتی ہیں۔ 
لڑکی کو شادی کی ضرورت ہے، تو وہ محبت کےلئے بندہ تلاش کرتی ہے اور جو لڑکا بھی اس کے کمفرٹ زون(comfort zone) میں آتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ اسے اس سے بہت محبت ہوگئی ہے۔ حالنکہ یہ غرض ہے محبت نہیں۔
اور لڑکوں کو تو ہر خوبصورت شکل اور پرکشش جسم والی جوان لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے۔
اب یہ کہ کیا سچی محبت بھی ہوتی ہے؟ ہاں۔۔ ہوتی ہے۔ 
اور اسکی نشانی یہ ہے کہ محبت کرنے والے کو دیکھو کہ کیا اسکی محبت کے پیچھے کوئی ضرورت تو نہیں ہے؟؟
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ہم اپنے جذبے کو ٹھیک سے پہچان لیں گے اور اسے محبت کا لباس نہیں پہنائیں گے تو ہم اس جذبے سے ہونے والے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے ہر جذبے کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنا ہوگا۔ اور دیانت داری سے پہچاننا ہوگا۔۔
بہرحال کوئی بھی وجہ ہو یہ بات مسلم ہے کہ ہر طرح کی محبت کی ایک ایکسپائری ڈیٹ ضرور ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیے کیونکہ یہ بھی ایک جذبہ ہی تو ہے نہ۔
(نوٹ اس میں ماں باپ کی اپنی اولاد کے لیے جو محبت ہے وہ شامل نہیں ہے کیونکہ وہ محبت انسانی فطرت میں بلٹ ان(Built in) ہے خود ساختہ نہیں ہے۔)
 اب انسانوں کے ایک خاص رویہ کی نشاندھی ضروری ہے اور وہ یہ کہ جب کوئی  بھی انسان اپنے منفی جذبے کے اثر سے باہر نکلتا ہے تو کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ اس میں فوراً مثبت جذبہ عود کر آئے یعنی یہ نہیں ہوتا کہ آپ کو کسی پر غصہ آیا ہو تو جیسے ہی وہ غصہ ختم ہو اسی وقت آپ کو اس پر پیار آ جائے۔۔۔
لیکن یہ کمال ہوتا ہے کہ جیسے ہی آپ کا کوئی مثبت جذبہ ختم ہوتا ہے تو فوراً اس کی جگہ منفی جذبہ لے لیتا ہے یعنی اگر آپ کی کسی سے محبت ختم ہوتی ہے تو فوراً نفرت اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ ہے نہ۔۔ ؟
تو ایسا کیوں ہوتا ہے ؟
ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ بچپن سے آپ کو نفرت کی تعلیم دی جاتی ہے آپ کو نفرت کرنا زیادہ پسند ہوتا ہے اور اس نفرت کو ہم اپنے اندر بہت سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیں۔
آخری بات۔
کسی سے محبت ختم ہونے کے بعد جو سب سے بڑی غلطی ہم کرتے ہیں وہ یہ کہ ہم الزام ہمیشہ دوسرے پر رکھتے ہیں کہ وہ اب پہلے جیسا نہیں رہا اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہم اذیت اور تکلیف کا شکار ہوجاتے ہیں
تو اپنے آپ کو اس تکلیف سے بچانے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم الزام خود کو دیں کہ اب مجھے اس میں دلچسپی باقی نہیں رہی اس سے ہمیں سکون و اطمینان حاصل ہوگا۔
ابوفروا۔

۔۔ مجھ سے کوئی محبت نہیں کرتا۔۔

تحریر ابوفروا۔۔
یہ جملہ اکثر و بیشتر بولا اور سنا جاتا ھے۔ 
خاص طور پر خواتین اور بچے یہ جملہ عموماً بولتے نظر آتے ہیں۔
تو میرا ان سے بہت معصومانہ سوال ھےکہ کوئی آپ سے محبت کیوں کرے، ؟
آپ میں ایسا کیا ھے کہ سب لوگ پابند ہیں کہ وہ آپ سے محبت کریں۔
کیا آپ کو اللّٰہ نے اسپیشل بنایا ھے اور آپ کو دنیا میں بھیجتے ہوئے آپ سے کہا ھے کہ تم دنیا میں جاؤ اور میں نے پوری دنیا کو حکم دے رکھا ھے کہ وہ سب تم سے محبت کریں گے تمہاری عزت ان پر فرض کردی ھے میں نے۔
اگر ایسا کچھ لکھوا کہ لائے ہو اپنے لیے تو دکھاؤ۔؟
یا آپ نے بنی نوع انسان کے لیے کچھ ایسے عظیم کارہائے نمایاں انجام دے دیے ہیں کہ اب سب مجبور ہیں آپ کی عزت کرنے اور آپ سے محبت کرنے کے لیے۔؟
یا آپ کا اخلاقی کردار اس اعلیٰ پائے کا ھے کہ لوگوں کے سر خود بخود آپ کے سامنے جھک جانے چاہئیں۔؟
مطلب آپ میں ایسا کیا ھے یا آپ نے ایسا کیا کیا ھے کہ لوگ آپ سے محبت کریں آپ کی عزت کریں۔
کیوں کریں۔ ؟
محبت کی بھیک مانگنے سے محبت نہیں ملتی۔ بلکہ 
جیسے سوئٹر کو بننے کے لیے پھندے لگائے جاتے ہیں نہ بلکل اسی طرح ہمیں محبت کو بھی بننا پڑتا ھے اس کے لیے ہمیں اخوت، ایثار، قربانی، درگزر، اور خدمت کے پھندے لگا لگا کر دوسرے کو اپنے ساتھ جوڑنا پڑتا ھے تب کہیں جاکر پیار کا سوئٹر مکمل ہوتا ھے اور ہمارے تن کو محبت کی گرمائیش پہنچانے کے قابل بنتا ھے۔۔
ابوفروا۔۔

*میرا وضو اتنا کچا نھیں کہ*

*تحریر: ابو فروا*
میں ایک پکا مسلمان ہوں میرا وضو اتنا کچا نھیں کہ وہ جھوٹ بولنے، غیبت کرنے ، کسی پہ بہتان لگانے سے ٹوٹ جائے۔
میرا وضو اتنا کچا نھیں ہوتا جو اشیاء میں ملاوٹ کرنے، دھوکا دینے، تجارت میں 
بے ایمانی کرنے، رشوت لینے سے ٹوٹ جائے،
میرا وضو اتنا کچا نھیں کہ وہ رزق حرام کمانے سے ٹوٹ جائے، 
میں سارا دن اپنی دکان پر 2نمبر اشیاء فروخت کرتا ہوں لیکن ایک ہی وضو سے تین نمازیں پڑھتا ہوں الحمداللہ میرا وضو اتنا کچا نھیں کہ وہ گاہک کو دھوکا دینے سے ٹوٹ جائے۔
ہم مسلمانوں کے وضو بہت پکے ہوتے ہیں ہمارے وضو پر کوئی آنچ بھی نھیں آتی 
چاہے سارا دن نامحرم سے پیار بھری باتیں کریں۔
فلم یا ڈارمے دیکھیں،
چغل خوریاں کریں یا حرام کاریوں میں دن گزاریں۔
ہمارے وضو تو ،، ڈیٹ،، پہ جانے سے بھی نھیں ٹوٹتے ۔
اتنے شاندار اور مضبوط وضو ہوتے ہیں جن پر نہ تو تکبر میں آنے سے فرق پڑتا ہے نہ کسی کو ذلیل کرنے سے وضو پر کوئی شک پڑتا ہے۔ 
جب ہم وضو بناتے ہیں تو جب چاہیں اپنے رب کے آگے سجدہ کر لیتے ہیں نماز ادا کرنے اور اپنے عہد عبودیت کو اپنے رب کے سامنے دوہرانے میں ہمیں کوئی پریشانی کبھی نھیں ہوتی نہ کسی بھی برے عمل سے ہمیں اپنے وضو پر کبھی شک پیدا ہوتا ہے۔
کیونکہ ہمارا وضو اتنا کچا نھیں ہوتا۔
ہمارا وضو صرف اس وقت ٹوٹتا ہے جب بول و براز یا ریح کا اخراج ہو۔
ہم ،،زندہ،، مسلم ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ 
ابو فروا۔