۔۔۔۔۔۔۔۔ تکبر یا عزت نفس۔۔

تحریر: ابو فروا
سوال پوچھا گیا ھے کہ 
انا یا تکبر کس طبقہ میں یا کس جنس میں زیادہ پایا جاتا ھے۔؟
عوام الناس کے لیے اس سوال کا جواب دینا مشکل ھے کیونکہ۔
یہ برائی انسانوں میں بہت زیادہ پائی جاتی ھے۔
اور اصول یہ ھے کہ جب کوئی بھی برائی زیادہ تر انسانوں میں نظر آئے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ھے کہ یا تو وہ اس برائی کو پہچان نہیں پا رھے۔ یا پھر اسے برائی مان نہیں رھے۔۔
تکبر یا انا ایک رویہ کا نام ھے۔
اور عزت نفس ایک جذبے کا نام ھے۔
اب۔ یہ کہ۔ تکبر اور عزت نفس میں ایک بہت لطیف فرق ھے اس لیے ایک عام انسان اس فرق کو سمجھنے میں ہمیشہ غلطی کر جاتا ھے۔
تکبر کرنے والا شخص اپنے آپکو یہ کہہ کر مطمئن کرتا ھے کہ میں تو اپنی عزت نفس کی حفاظت کر رہا ہوں
اور میں  کمتر نہیں ہوں بس یہ بتا یا دیکھا یا سمجھا رہا ہوں دوسرے کو۔۔۔
پوری دنیا میں آپکو ایک بھی شخص ایسا نہیں ملے گا کہ وہ یہ تسلیم کر لے کہ وہ متکبر ھے۔۔ کیوں۔ ؟
اس لیے کہ ہر شخص یہ بہت اچھے سے جانتا ھے کہ تکبر ایک انتہائی ناپسندیدہ رویہ ھے انسانوں کے نزدیک بھی اور رب کے نزدیک بھی۔
پھر تو کیا آپکو دنیا میں متکبر لوگ نظر نہیں آتے۔۔ ؟
یقیناً آپکو بہت لوگ متکبر نظر آئیں گے (اپنے علاؤہ)
یا سچے علم والوں کے علاؤہ
تو آئیے آج سمجھیں کہ تکبر اور عزت نفس میں کیا فرق ھے۔
تکبر۔۔ اس میں انسان دوسرے کو اپنے سے حقیر سمجھتا ھے یا اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر سمجھتا ھے۔
عزت نفس۔۔
اس میں انسان اپنی ذات کی عزت کرتا ھے اور دوسرے کی بھی عزت کرتا ھے۔ اور اگر کوئی دوسرا اسے ذلیل کرنے یا کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ھے تو عزت نفس والا شخص اسے کوئی جواب نہیں دیتا بلکہ انتہائی خاموشی اور شرافت سے اس سے الگ ہو جاتا ھے
یعنی اس جگہ نہیں جاتا جہاں اس کی عزت نہیں کی جاتی لیکن اگر کبھی اتفاق سے ملنا پڑ بھی جائے تو انہیں احترام دینے میں کمی نہیں کرتا۔
عزت نفس کو قائم کرنا، سنبھالنا، انتہائی مشکل کام ھے۔ 
مجھے اپنی عزت نفس بہت عزیز ھے صرف یہ کہہ دینے سے آپکے نفس کو عزت نہیں ملتی۔
بلکہ یہ ثابت کرنا پڑتا ھے کہ میرا نفس عزت کے قابل ھے۔
اور یہ ثابت کرے گی آپکی زبان۔ آپکا رویہ۔ آپکے اخلاق۔۔
اب آتے ہیں سوال کے بنیادی حصے کی طرف کہ یہ تکبر کا رویہ معاشرے کے کس طبقے میں زیادہ نظر آتا ھے
یہ رویہ آپکو ان افراد میں زیادہ نظر آئے گا جن کے پاس دولت کی کمی ہوگی معاشرے کے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں۔
وجہ اس کی یہ ھے کہ بدقسمتی سے معاشرے نے عزت کو دولت کے ساتھ نتھی کر دیا ھے۔
معاشرہ صرف ان لوگوں کو عزت دار سمجھتا ھے یا ان کا احترام کرتا ھے جن کے پاس دولت ہوتی ھے۔
اب جس کے پاس دولت نہیں ھے وہ کیا کرے۔ ؟
وہ انانیت کا ایک خود ساختہ خول اپنے اوپر چڑھا لیتا ھے۔
یہ خول کیسا ہوتا ھے ؟
اس کو وہ کیسے استعمال کرتا ھے۔ ؟
اپنے آپ کو کیسے مطمئن کرتا ھے۔؟
اس کی تفصیل 
 ایک الگ مضمون کا تقاضا کرتی ھے
سوال کا وہ حصہ جس میں جنسی تقابل کے حوالے سے تکبر کی بابت پوچھا گیا ھے تو۔
میرے مطابق مردوں میں تکبر اپنی خالص اور حقیقی شکل میں ہوتا ھے ( یعنی جس میں ہو)
اور عورتیں تکبر کا برقع اوڑھ لیتیں ہیں مجبوراً۔
ہمارا معاشرہ چونکہ مردوں کی حاکمیت کا معاشرہ ھے اس لیے عورت کو ایسا لگتا ھے کہ وہ بے توقیر ہورہی ھے۔ ( اور صحیح لگتا ھے)
تو پھر عورت مرد کی حاکمیت کے خلاف بغاوت کے جذبے کے زیر اثر تکبر کا برقع اوڑھتی ھے۔
فرق یہ پڑتا ھے کہ مرد اپنے تکبر کو بہت چلاکی سے چھپا لیتا ھے لیکن عورت اپنی فطری معصومیت کی وجہ سے اپنے( جالی) تکبر کو چھپانے میں ناکام رہتی ھے
جس کی وجہ سے بظاہر ایسا لگتا ھے کہ عورتوں میں انا یا تکبر زیادہ ھے۔۔
                   ۔۔۔ ابوفروا۔۔۔

Share To:
Next
This is the most recent post.
Previous
Older Post

Post A Comment:

0 comments so far,add yours