۔۔خیالات کی رفو گری۔۔

تحریر ابوفروا۔۔
انسان کی پوری زندگی پر سب سے زیادہ اثرات اس کے اپنے خیالات کے مرتب ہوتے ہیں۔
انسان کی اس دنیا میں کامیابی ناکامی۔ اور آخرت میں کامیابی اور ناکامی کا زیادہ تر دارومدار ان خیالات پر ہی ہوتا ہے جو اس کے ذہن کو اپنی آماج گاہ بنائے رکھتے ہیں۔
یہ تمام خیالات جو انسان میں ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں یہ اس کی اپنے عقل کی طرف سے بھی آتے رہتے ہیں اور انسان کے جذبات بھی ان خیالات کو پیدا کرنے میں اپنا کام کرتے ہیں۔ 
اس کے ساتھ ساتھ علم کے راستے بھی کچھ خیالات انسان تک پہنچتے رہتے ہیں۔
لیکن جو خیالات علم کے ذریعے ایک عام انسان تک پہنچتے ہیں وہ اس کے لیے زیادہ تر قابل اعتنا نہیں ہوتے یا اسے پسند نہیں آتے۔
اسے وہ خیالات زیادہ فیسیٹیٹ کرتے ہیں جو اس کے جذبات اس تک پہنچاتے ہیں۔
پھر یہ تمام اقسام کے خیالات اس کے ذہن میں گڈ مڈ ہوجاتے 
انسان یہ بات بہت اچھے سے جانتا ہے کہ جو خیالات جذبات نے اسے دیے ہوتے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہوتے لیکن وہ بہت چالاکی سے اپنے ان جذباتی خیالات کو عقلی خیالات کا لبادہ اوڑھانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ کم از کم اپنے آپ کو مطمئن کر سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمارے اندر اپنی ذات کے لیے اور دوسروں کے لیے منفی اور مثبت خیالات بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
یہ منفی اور مثبت خیالات کیا ہیں ؟
جو خیالات جذبات کی طرف سے آتے ہیں وہ زیادہ تر منفی ہوتے ہیں اور جو خیالات علم و عقل کی طرف سے آتے ہیں وہ زیادہ تر مثبت ہوتے ہیں۔
لیکن اگر ہم اپنے منفی خیالات کی رفو گری نہ کریں تو ایک وقت آتا ہے کہ ہماری پوری شخصیت منفی بن جاتی ہے۔
پھر ہمیں ہر شخص ہر شہ منفی نظر آتی ہے۔ اور یہ ہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی شخصیت مسخ ہوکر فوت ہو جاتی ہے۔
ہمیں اپنی ذات کی۔
اپنے علم کی۔ اپنے جذبات کی عصبیت سے اگر باہر نکلنا ہے تو پھر سب سے پہلے اپنے خیالات کی رفو گری کرنی ہوگی۔
اپنے خیالات کو دیانت داری سے پہچاننا ہوگا کہ کہ کونسا خیال کس طرف سے مجھ پر وارد ہو رہا ہے۔
یہ ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم انسانیت کی معراج پا سکتے ہیں اور اس دنیا میں اور آخرت میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ 
ورنہ گلے سڑے اور پھٹے پرانے خیالات ہمیں اس مقام پر لے جاتے ہیں جس کا قرآن نے ذکر کیا ہے کہ انسان اسفل السافلین کے مقام پر پہنچ جاتا ہے یعنی
گھٹیا سے بھی گھٹیا ہو جاتا ہے۔
اپنے بوسیدہ خیالات میں ڈوب کے کبھی بھی انسان سراغ زندگانی نہیں پا سکتا۔۔
ابوفروا۔۔۔

Share To:

Post A Comment:

0 comments so far,add yours