کیا ساس سسر کی خدمت بہو پر فرض ہے ؟

*تحریر:ابو فروا*
دین اسلام نے معاشرت کے متعلق بہت واضح احکامات دیئے ہیں 
معاشرت کے متعلق تمام تر معاملات اور اخلاقیات سے متعلق کچھ بنیادی نکات بیان کردیے گئے ہیں جن پر رکھ کر ہم اپنے روز مرہ کے معاملات اور آپس کے تعلقات کے اخلاقیات کو جانچ سکتے ہیں۔ کہ کیا صحیح ہے اور کیا صحیح نھیں ہے۔
ہمارے حقوق کیا ہیں اور فرائض کیا۔
اور یہ کہ کس رشتے کے ساتھ ہمارے تعلق کی نوعیت کیسی ہونی چاہیے۔
قرآن نے تایا چچا کا نام لیکر نھیں بلکہ عزیز واقارب کا لفظ استعمال کر کے کہہ دیا کہ ان کے ساتھ قطع تعلق نھیں کر سکتے رشتوں کو جوڑنے کا حکم دے دیا توڑنے کا نھیں۔
پڑوسیوں کے حقوق بیان کردیے، پہلو کے ساتھی یعنی دوستوں کے حقوق کی بات کی۔
والدین کے حقوق اور ان کے فرائض اور ان کا رتبہ بھی بیان کیا۔
یہ واحد رشتہ ہے جس میں صرف حقوق و فرائض ہی نھیں بلکہ ان کا رتبہ بھی بیان کیا گیا ہے۔
اب وہ رشتے جو خون کے رشتے نھیں بلکہ بنائے جاتے ہیں وہ رشتہ ازدواج ہے۔
اس میں قرآن نے شوہر کے حقوق کے وہ قوام (حاکم) ہوگا۔ اور شوہر کے فرائض کے وہ اپنی بیوی کی ہر ضرورت کو پورا کرنے والا اور اس کے ساتھ رحم کرنے والا ہوگا۔
اب آتے ہیں ان رشتوں کی طرف جو شادی کے نتیجے میں بنتے ہیں جیسے ساس سسر، دیور سالی وغیرہ۔
تو سوال ساس سسر کے بارے میں پوچھا گیا ہے۔
اس رشتے کے لیے دین نے شریعی والدین کا صیغہ استعمال کیا۔ یعنی شادی کے بعد ساس سسر کا رشتہ شریعت نے ماں باپ کا رشتہ قرار دیا۔ اور اس رشتے کی حرمت کو عارضی نھیں رکھا بلکہ دائمی حرمت دے دی یعنی جیسے سالی یا دیور کا رشتہ عارضی حرمت کا ہے کہ اگر طلاق ہو جائے تو سالی یا دیور سے شادی ہو سکتی ہے مطلب طلاق کے بعد حرمت ختم ہوگئی۔
لیکن ساس سسر کو جو رتبہ اور حرمت دی گئی وہ دائمی
ہے مرتے دم تک کے لیے انھیں والدین کا رتبہ عطا ہوا ہے اب طلاق کے بعد بھی ساس یا سسر سے شادی نھیں ہوسکتی کیونکہ وہ آپ کے والدین کے رتبے پر فائز ہوگئے ہیں۔
کسی ادارے کے DG کیلئے جو حقوق و فرائض طے ہوگئے اور جو اس کا رتبہ طے ہوگیا وہ ہر اس شخص کے لیے ہوگا جو بھی اس پوسٹ پر آئے گا۔
تو جب شریعت نے ساس سسر کو والدین کے رتبے پر فائز کر دیا تو اب ان کے حقوق وفرائض اور رتبہ بھی بلکل وہ ہی ہوگا جو والدین کے باب میں بیان ہوگیا ہے۔
ساس سسر کا ادب و احترام اور خدمت بلکل ایسے ہی بہو اور داماد پر فرض ہوگی جیسے کہ والدین کی ہے۔
اور ساس سسر کا یہ رتبہ طلاق کے بعد بھی ختم نھیں ہوگا۔ یعنی شادی شدہ حالت میں تو کیا طلاق کے بعد بھی ساس سسر کی خدمت فرض ہے۔ 
اگر ایسا نہ ہوتا تو جب شریعت نے ساس سسر کو والدین کا درجہ دیا تب یہ استثناء بیان کر دیتا کہ یہ والدین تو بن گئے ہیں لیکن ان کا رتبہ اور ان کے حقوق آپ کے حقیقی والدین جیسے نھیں ہیں۔
لیکن ایسا کوئی استثناء بیان نھیں ہوا۔ 
ساس سسر ہمیشہ کے لیے محترم بنا دیئے گئے یعنی وہ ویسے ہی محرم ہیں جیسے حقیقی والدین محرم ہیں۔
یہاں ایک سوال ذہین میں پیدا ہوسکتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللّٰہ کسی دوسرے شخص کو بلکل وہ رتبہ دے دے جو حقیقی والدین کا ہوتا ہے۔ 
تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حقیقی والدین والا رتبہ اللّٰہ نے اور لوگوں کو بھی دیا ہے
جیسے وہ عورت جو آپ کو دودھ پلا دے صرف ایک بار
وہ مرد جو کسی بچے کو اپنا لے پالک بنا لے۔ اور قرآن نے تو نبی کی بیویوں کو بھی ہمارے لیے ماں کا رتبہ دے دیا۔۔۔ 
شریعت میں تو یہاں تک ہے کہ اگر کوئی عورت ہمارے بچپن میں صرف ایک گھونٹ دودھ ہمیں پلا دے تو اس کا رتبہ حقیقی ماں کے برابر ہو جاتا ہے۔
یہاں تک کے اس عورت کی اولاد سگے بہن بھائی بن جاتے ہیں ان سے شادی نھیں ہوسکتی۔
اگر اب بھی کوئی شخص یہ اصرار کرے کہ میں نھیں مانتا مجھے تو صاف الفاظ میں یہ لکھا ہوا دکھاؤ کہ ساس سسر کی خدمت فرض ہے۔ تو اس سے میرا یہ سوال ہے کہ کیا پھر دادا دادی، نانا نانی کی خدمت بھی فرض نھیں ہے کیونکہ صاف الفاظ میں تو صرف ماں باپ ہی لکھا ہوا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ سب سے پہلی زمہ داری ساس سسر اور شوہر کی ہے کہ وہ آنے والی بہو کو سگی بیٹی کا رتبہ اور وہی عزت و شفقت دیں اور اسی طرح بہو کے بھی لاڈ اٹھائیں جیسے بیٹی کے اٹھاتے ہیں تب ہی وہ ماں باپ کے مرتبے پر فائز ہونے کا حق رکھتے ہیں اگر وہ بہو کو بیٹی کا رتبہ نھیں دیتے تو اس صورت میں وہ خود ماں باپ کے رتبے سے محروم ہو جائیں گے۔
اس لیے کہ جہاں شریعت نے ساس سسر کو ماں باپ کے درجے پر فائز کیا ہے وہاں بہو کو بھی بیٹی کے درجے پر فائز کر دیا ہے تو یہ ہو نھیں سکتا کہ کوئی اپنے حق کا تو مطالبہ کرے لیکن اپنے فرض کو نا قبول کرے۔
کسی بھی رشتے یا اپنے حقوق و فرائض کو اپنی پسند نہ پسند کے مطابق نھیں بلکہ دین اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق سمجھا جانا چاہیے۔
ابو فروا۔
Share To:

Post A Comment:

0 comments so far,add yours