جِسے ہم بھُول بیٹھے تھے

میں کمپیوٹر پر کچھ کام کر رہا تھا کہ میری بیگم مجھ سے کچھ فاصلے پر بیٹھی مجھ سے باتیں کر رہی تھی اور میں اس کی باتوں سے، اس کے بولنے سے شدید اکتاہٹ کا شکار ہوکر شاکی نظروں سے اس کی طرف دیکھتا اور وہ کچھ دیر کے لئے خاموش ہوجاتی اور میری جانب خائف نظروں سے دیکھنے لگتی اور ایک بار پھر سب بھول بھال کر مجھ سے باتیں کرنے لگتی اور میں بغیر جواب دیئے ہُوں ہاں کرکے کمپیوٹر پر مصروف رہا کچھ دیر خاموشی طاری رہی تو میں نے دھیان دیا تو دیکھا وہ صوفے سے ٹیک لگائے سو رہی ہے میں نے اس وقت اپنی بیوی کے چہرے کو غور سے دیکھا، وہ دنیا مافیہا سے بے خبر سو رہی تھی میں اس کے چہرے کی معصومیت پر کافی دیر غور کرتا رہا اور سوچتا رہا کہ یار یہ عورت بھی کیا مسکین ہوتی ہے ، برسوں اپنے باپ کی شفقت کے سائے تلے اپنے گھر والوں کے ساتھ پلتی بڑھتی ہے، اور اب کہاں ایک نا واقف شخص کے ساتھ آ کر زندگی گزار رہی ہے، اور اس نا واقف شخص کیلئے اس نے اپنے گھر بار ماں باپ چھوڑا، والدین کا لاڈ و پیار اور ناز نخرا چھوڑا، اپنے گھر کی راحت اور آرام کو چھوڑا، اس شخص کی دل و جان سے خدمت کرتی ہے، اس کا دل بہلاتی ہے، اس کو راحت اور سکون دیتی ہے، سارا دن گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہے، سخت گرمی میں جب میں اور بچے اے سی کی ٹھنڈک میں آرام کر رہے ہوتے ہیں تو وہ آگ میں تپتے کچن میں ہمارے لئے کھانا بنا رہی ہوتی ہے پھر جب وہ کھانا لگاتی ہے بچے اور میں کھانا کھا رہے ہوتے ہیں تب بھی بار بار اس کے کچن کے چکر لگ رہے ہوتے ہیں پھر کچھ دیر بیٹھ کر جلدی جلدی خود بھی دوچار لقمے کھا لیتی ہے کیونکہ کھانا کھاتے ہی میں نے چائے پینی ہوتی ہے اس  نے پھر کچن میں چائے کے لئے چلے جانا ہے پھر برتن سمیٹنے اور برتن دھونے ۔ 
جس دن مشین لگانی ہو کپڑے دھونے ہوں اس دن وہ صبح پانچ بجے سے لانڈری میں ہوتی ہے اور آٹھ بجے سارے کام چھوڑ کر ہمارے لئے ناشتہ بنانے کچن میں چلی جاتی ہے ، ناشتہ کروا کے برتن سمیٹ کے ایکبار پھر لانڈری میں کپڑے دھونے میں مگن ہوجاتی ہے،
 رات کو سب کو کھانا کھلا کر برتن دھوکر تقریباََ گیارہ بارہ بجے کچھ دیر میرے پاس بیٹھ کر باتیں کرنا چاہتی ہے مگر میں ۔۔۔۔ میں اس وقت کمپیوٹر پر کسی نہ کسی کام میں مصروف ہوتا ہوں اور وہ بے چاری سب باتیں دل میں دبائے صوفے پر ہی سو جاتی ہے ۔۔۔
یہ بیویاں کیسی ہوتی ہیں یار کبھی اگر سوچا جائے تو آنکھیں اشکبار ہوجائیں گھر کے کام اگر ایک دن کے لئے بھی ہم مردوں کو کرنے پڑ جائیں تو یقیناََ ہم خدا کے آگے ہاتھ جوڑ لیں۔۔
سچ ہے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اس کی طاقت و ہمت کے مطابق اور اس کی صلاحیت کے مطابق ذمہ داریاں سونپی ہوئی ہوتی ہیں ۔۔
عورت جتنی بھی کوشش کرلے مرد کے مقابلے میں باہر کے کام نہیں کر سکتی وہ کہیں نہ کہیں مار کھا جائے گی اور اسی طرح مرد چاہے جتنی بھی کوشش کر لے ایک گھر کو اس طرھ سے مینیج نہیں کر سکتا جیسے ایک عورت کر لیتی ہے۔۔۔ جبکہ عورت چند لمحوں میں ہر شے کو ترتیب دے کر گھر کو صاف ستھرا کر دیتی ہے ۔۔۔
میں سوچنے لگا کہ ہم میں سے کئی ہوتے ہیں جو معمولی سی بات پر بیدردی اور بے رحمی سے اپنی بیویوں کو مار پیٹ لیتے ہیں..
بلکہ کچھ تو دھکے دیکر اپنے گھر سے بھی باہر نکال کرتے ہیں،، انہیں واپس اپنے ماں باپ کے اس گھر لا ڈالتے ہیں جو وہ اس کی خاطر چھوڑ کر آئی تھی، ہم میں سے ہی کچھ لوگ ہوتے ہیں جو بیویوں کو گھر میں ڈال کر دوستوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے ہیں، ہوٹلوں میں جا کر وہ کچھ کھاتے پیتے ہیں جس کا ان کے گھر میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا..
ہم میں سے ہی کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کے باہر اٹھنے بیٹھنے کا دورانیہ ان کے اپنے بیوی بچوں کے پاس اٹھنے بیٹھنے کے دورانیئے سے زیادہ ہوتا ہے..
ہم میں سے ہی کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے گھر کو اپنی بیوی کیلئے جیل بنا کر رکھ دیتے ہیں، نا انہیں کبھی باہر اندر لیجاتے ہیں، اور نا ہی کبھی ان کے پاس بیٹھ کر ان سے دل کا حال سنتے سناتے ہیں..
ہم میں سے ہی کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی بیوی کو ایسی حالت میں سلا دیتے ہیں کہ اس کے دل میں کسی چیز کی خلش اور چھبن تھی، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔۔
ہم میں سے ہی کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی راحت اور اپنی بہتر زندگی کیلئے گھر چھوڑ کر باہر نکل کھڑے ہوتے ہیں، پیچھے مڑ کر اپنی بیوی اور بچوں کی خبر بھی نہیں لیتے کہ ان پر ان کے باہر رہنے کے عرصہ میں کیا گزرتی ہوگی..
ہم میں سے ہی کچھ لوگ ہوتے ہیں جو ایسی ذمہ داری سے بھاگ جاتے ہیں جس کے بارے میں ان سے روز محشر پوچھ گچھ کی جائے گی..
براہِ کرم میری اس تحریر پر یہ فتویٰ مت لگا کر اپنی منافقت کا اظہار مت کیجیئے گا کہ ماں کا ذکر کیا نہیں اور بیوی بیوی کرتا رہا ہوں ۔۔
کیونکہ یہ تحریر صرف بیوی کے لئے ہے ماں کے لئے ہزاروں بار لکھا ہے اور آئیندہ بھی لکھتے رہیں گے ۔
میری ماں بھی ایک بیوی تھی اور میری بیوی بھی ایک ماں ہے اگر ہم یہ سوچ کر چلیں گے تو منافقت سے دور ہو کر ایک اچھا معاشرہ ترتیب دے سکتے ہیں
Share To:

Post A Comment:

0 comments so far,add yours