۔۔۔ محبت کی ایکسپائیری ڈیٹ۔۔

تحریر: ابوفروا۔
انسانی ذات میں جذبات کا ایک سمندر ہے ان میں مثبت جذبات بھی ہیں اور منفی جذبات بھی۔ یہ جذبات ہی ہیں جو انسان میں خوشی اور غمی کے احساسات پیدا کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ انسان میں کامیابیوں اور ناکامیوں کا دارومدار بھی زیادہ تر ان جذبات ہی کا مرہون منت ہے۔
لیکن یہ بات جان لینی چاہیے کہ جذبات جتنے بھی قوی ہوں بہرحال ان سب کی ایک ایکسپائری ڈیٹ (expiry date) ہوتی ہے یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی بھی انسان کسی ایک جذبے کے زیر اثر ہمیشہ رہے یعنی یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص تمام عمر غصے کی حالت میں رہے یا دکھی رہے یا شاد رہے یا مستقل ہنستا رہے یا روتا رہے۔
تمام تر انسانی جذبات کا زیادہ تر تعلق بل واسطہ اس کی ضروریات کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔
جیسے ہی کسی جذبے سے وابستہ ضرورت کم یا زیادہ ہوتی ہے ویسے ہی وہ جذبہ بھی شدید یا سرد ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
اس تمہید کے بعد اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف 
یعنی "جذبہ محبت"۔۔ 
لوگوں کی اکثریت اس خام خیالی میں زندگی بسر کرتی ہے کہ شاید یہ جذبہ محبت دائمی ہوتا ہے یعنی اگر کسی سے ایک بار محبت ہو جائے تو یہ محبت ہمیشہ رہے گی اس کی کوئی ایکسپائری ڈیٹ نہیں ہے۔۔ 
نہیں ایسا نہیں۔۔ بلکل نہیں ہے
محبت بھی دوسرے جذبوں کی طرح کا ایک جذبہ ہی ہے اور یہ بھی اس وقت تک رہے گا جب تک وہ ضرورت باقی رہے گی جو اس جذبے کی محرک تھی۔ 
اس ضمن میں ایک بات جاننا بھی ضروری ہے وہ یہ کہ لوگوں کی اکثریت اس جذبہ محبت کو سمجھنے سے بھی قاصر رہتی ہے۔ یعنی ایک بندہ جو یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ مجھے فلاں شخص سے بہت محبت ہے تو کیا وہ واقعی میں محبت ہوتی بھی ہے یا نہیں۔۔ ؟
دیکھیں حسن ہر انسان کو بھاتا ہے اور انسان اس کی طرف لپکتا ہے وہ حسن شکل و صورت کا ہو، کردار کا ہو، اخلاق کا ہو، یا علم و دولت کا ہو، 
پھر جیسے ہی اس حسن میں کمی آجاتی ہے جس کی طرف وہ بندہ لپکا تھا یا اسے اس سے زیادہ حسن نظر آ جاتا ہے کہیں اور۔۔ تو اسے لگتا ہے کہ اسے اب اس شخص سے وہ محبت نہیں رہی جو پہلے تھی۔
اسی طرح اور بھی بہت سی چیزیں ہیں جسے انسان محبت سمجھ لیتا ہے۔ مثلاً
انسیت ہے۔ اور سب سے بڑھ کر جنسی کشش ہے۔ یا اسکول و آفس کے ساتھیوں سے محبت۔ تو جسے آپ محبت کا نام دیتے ہیں وہ دراصل زیادہ تر آپ کی ضروریات ہی ہوتی ہیں۔ 
لڑکی کو شادی کی ضرورت ہے، تو وہ محبت کےلئے بندہ تلاش کرتی ہے اور جو لڑکا بھی اس کے کمفرٹ زون(comfort zone) میں آتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ اسے اس سے بہت محبت ہوگئی ہے۔ حالنکہ یہ غرض ہے محبت نہیں۔
اور لڑکوں کو تو ہر خوبصورت شکل اور پرکشش جسم والی جوان لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے۔
اب یہ کہ کیا سچی محبت بھی ہوتی ہے؟ ہاں۔۔ ہوتی ہے۔ 
اور اسکی نشانی یہ ہے کہ محبت کرنے والے کو دیکھو کہ کیا اسکی محبت کے پیچھے کوئی ضرورت تو نہیں ہے؟؟
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ہم اپنے جذبے کو ٹھیک سے پہچان لیں گے اور اسے محبت کا لباس نہیں پہنائیں گے تو ہم اس جذبے سے ہونے والے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے ہر جذبے کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنا ہوگا۔ اور دیانت داری سے پہچاننا ہوگا۔۔
بہرحال کوئی بھی وجہ ہو یہ بات مسلم ہے کہ ہر طرح کی محبت کی ایک ایکسپائری ڈیٹ ضرور ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیے کیونکہ یہ بھی ایک جذبہ ہی تو ہے نہ۔
(نوٹ اس میں ماں باپ کی اپنی اولاد کے لیے جو محبت ہے وہ شامل نہیں ہے کیونکہ وہ محبت انسانی فطرت میں بلٹ ان(Built in) ہے خود ساختہ نہیں ہے۔)
 اب انسانوں کے ایک خاص رویہ کی نشاندھی ضروری ہے اور وہ یہ کہ جب کوئی  بھی انسان اپنے منفی جذبے کے اثر سے باہر نکلتا ہے تو کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ اس میں فوراً مثبت جذبہ عود کر آئے یعنی یہ نہیں ہوتا کہ آپ کو کسی پر غصہ آیا ہو تو جیسے ہی وہ غصہ ختم ہو اسی وقت آپ کو اس پر پیار آ جائے۔۔۔
لیکن یہ کمال ہوتا ہے کہ جیسے ہی آپ کا کوئی مثبت جذبہ ختم ہوتا ہے تو فوراً اس کی جگہ منفی جذبہ لے لیتا ہے یعنی اگر آپ کی کسی سے محبت ختم ہوتی ہے تو فوراً نفرت اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ ہے نہ۔۔ ؟
تو ایسا کیوں ہوتا ہے ؟
ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ بچپن سے آپ کو نفرت کی تعلیم دی جاتی ہے آپ کو نفرت کرنا زیادہ پسند ہوتا ہے اور اس نفرت کو ہم اپنے اندر بہت سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیں۔
آخری بات۔
کسی سے محبت ختم ہونے کے بعد جو سب سے بڑی غلطی ہم کرتے ہیں وہ یہ کہ ہم الزام ہمیشہ دوسرے پر رکھتے ہیں کہ وہ اب پہلے جیسا نہیں رہا اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہم اذیت اور تکلیف کا شکار ہوجاتے ہیں
تو اپنے آپ کو اس تکلیف سے بچانے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم الزام خود کو دیں کہ اب مجھے اس میں دلچسپی باقی نہیں رہی اس سے ہمیں سکون و اطمینان حاصل ہوگا۔
ابوفروا۔
Share To:

Post A Comment:

0 comments so far,add yours